حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 205

۸۸۷ عباس سے روایت کرتے ہیں کہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ اِنِّی مُمِیتُکَ یعنی میں تجھ کو مارنے والا ہوں۔اس پر دوسرے اقوال اللہ تعالیٰ کے دلالت کرتے ہیں۔قُلْ يَتَوَ فُكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِينَ تَتَوَفهُمُ الْمَلَيْكَةُ طَيِّبِينَ الَّذِيْنَ تَتَوَفَّهُمُ الْمَلَبِكَةُ ظَالِمِي ، اَنفُسِهِمْ ، غرض حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اعتقاد یہی تھا کہ حضرت عیسی فوت ہو چکے ہیں اور ناظرین پر واضح ہوگا کہ حضرت ابن عباس قرآن کریم کے سمجھنے میں اول نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارے میں ان کے حق میں آنحضرت علیہ کی ایک دعا بھی ہے۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۲۴، ۲۲۵) امام بخاری رحمہ اللہ اسی غرض سے آیہ کریمہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عليهم لے کو کتاب التفسیر میں لایا ہے۔اور اس ایراد سے اس کا منشاء یہ ہے کہ تا لوگوں پر ظاہر کرے تَوَفَّيْتَنِيْ کے لفظ کی صحیح تفسیر وہی ہے جس کی طرف آنحضرت ﷺ اشارہ فرماتے ہیں یعنی مار دیا اور وفات دیدی۔اور حدیث یہ ہے۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّهُ يُجَاءُ بِرِجَالٍ مِّنْ أُمَّتِى فَيُؤْخَذُ بِـ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصَيْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَ كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ صفحه ۶۶۵ بخاری ۶۹۳ بخاری یعنی قیامت کے دن میں بعض لوگ میری امت میں سے آگ کی طرف لائے جائیں گے۔تب میں کہوں گا کہ اے میرے رب ! یہ تو میرے اصحاب ہیں۔تب کہا جائے گا کہ تجھے ان کاموں کی خبر نہیں جو تیرے پیچھے ان لوگوں نے کئے۔سواس وقت میں وہی بات کہوں گا جو ایک نیک بندہ نے کہی تھی یعنی مسیح ابن مریم نے جب کہ اس کو پوچھا گیا تھا کہ کیا یہ تو نے تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے ماننا اور وہ بات جو میں ابن مریم کی طرح کہوں گا ) یہ ہے کہ میں جب تک ان میں تھا ان پر گواہ تھا پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو اس وقت تو ہی ان کا نگہبان اور محافظ اور نگران تھا۔اس حدیث میں آنحضرت علی نے اپنے قصہ اور مسیح ابن مریم کے قصہ کو ایک ہی رنگ کا قصہ قرار دے کر وہی لفظ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کا اپنے حق میں استعمال کیا ہے جس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی سے وفات ہی مراد لی ہے۔السجدة: ١٢ النحل:٣٣ النحل : ٢٩ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۸۶،۵۸۵) المائدة: ١١٨ یہ بخاری مجتبائی کے صفحات ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس موجود تھی۔(ناشر )