حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 204
۸۸۶ اگر آسمان پر ان کی روح ہی گئی تو پھر نازل ہونے کے وقت جسم کہاں سے ساتھ آ جائے گا۔۔ہم فرض محال کے طور پر قبول کر لیں کہ حضرت مسیح اپنے جسم خاکی کے سمیت آسمان پر پہنچ گئے تو اس بات کے اقرار سے ہمیں چارہ نہیں کہ وہ جسم جیسا کہ تمام حیوانی و انسانی اجسام کے لئے ضروری ہے آسمان پر بھی تاثیر زمانہ سے ضرور متاثر ہوگا اور بمرور زمانہ لا بدی اور لازمی طور پر ایک دن ضرور اس کے لئے موت واجب ہوگی۔پس اس صورت میں اول تو حضرت مسیح کی نسبت یہ ماننا پڑتا ہے کہ اپنی عمر کا دورہ پورا کر کے آسمان پر ہی فوت ہو گئے ہوں۔اور کواکب کی آبادی جو آج کل تسلیم کی جاتی ہے اسی کے کسی قبرستان میں دفن کئے گئے ہوں۔اور اگر پھر فرض کے طور پر اب تک زندہ رہنا ان کا تسلیم کر لیں تو کچھ شک نہیں کہ اتنی مدت گزرنے پر پیر فرتوت ہو گئے ہونگے اور اس کام کے ہرگز لائق نہیں ہونگے کہ کوئی خدمت دینی ادا کر سکیں پھر ایسی حالت میں ان کا دنیا میں تشریف لانا بجز ناحق کی تکلیف کے اور کچھ فائدہ بخش معلوم نہیں ہوتا۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۲۵ تا ۱۲۷) مسیح ابن مریم کے فوت ہو جانے کے بارہ میں ہمارے پاس اس قدر یقینی اور قطعی ثبوت ہیں کہ ان کے مفصل لکھنے کے لئے اس مختصر رسالہ میں گنجائش نہیں۔پہلے قرآن شریف پر نظر غور ڈالو اور ذرہ آنکھ کھول کر دیکھو کہ کیونکر وہ صاف اور بین طور پر عیسی بن مریم کے مرجانے کی خبر دے رہا ہے جس کی ہم کوئی بھی تاویل نہیں کر سکتے۔مثلاً یہ جو خدائے تعالیٰ قرآن کریم میں حضرت عیسی کی طرف سے فرماتا ہے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ لے کیا ہم اس جگہ توفی سے نیند مراد لے سکتے ہیں؟ کیا یہ معنے اس جگہ موزوں ہونگے کہ جب تو نے مجھے سلا دیا اور میرے پر نیند غالب کر دی تو میرے سونے کے بعد تو ان کا نگہبان تھا ، ہر گز نہیں بلکہ توفی کے سید ھے اور صاف معنے جوموت ہے وہی اس جگہ چسپاں ہیں لیکن موت سے مراد وہ موت نہیں جو آسمان سے اترنے کے بعد پھر وارد ہو کیونکہ جو سوال ان سے کیا گیا ہے یعنی ان کی امت کا بگڑ جانا۔اس وقت کی موت سے اس سوال کا کچھ علاقہ نہیں۔کیا نصاری اب صراط مستقیم پر ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں کہ جس امر کے بارے میں خدائے تعالیٰ نے عیسی بن مریم سے سوال کیا ہے وہ امر تو خود آنحضرت ﷺ کے زمانہ تک ہی کمال کو پہنچ چکا ہے۔ماسوا اس کے حدیث کی رو سے بھی حضرت عیسی علیہ السلام کا فوت ہو جانا ثابت ہے چنانچہ تفسیر معالم کے صفحہ ۱۶۲ میں زیر تفسیر آیت يعيسَى اِنّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ انت لکھا ہے کہ علی بن طلحہ ابن المائدة: ١١٨