حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 200

۸۸۲ ہیں جو آسمان سے فرشتوں کے ساتھ اتر تا نظر آئے گا۔یہ کس قدر خلاف سنت اللہ ہے۔سید الرسل تو آسمان پر چڑھتایا اتر تا نظر نہ آیا ، تو کیا مسیح اترتا نظر آ جائے گا۔لعنة اللہ علی الکاذبین۔کیا ابوبکر صدیق نے سید المرسلین محمد مصطفی عملے کو مع فرشتوں کے معراج کی رات میں آسمان پر چڑھتے یا اتر تے دیکھا؟ یا عمر فاروق نے اس مشاہدہ کا فخر حاصل کیا؟ یا علی مرتضیٰ نے اس نظارہ سے کچھ حصہ لیا ؟ پھر تم کون اور تمہاری حیثیت کیا کہ مسیح موعود کو آسمان سے مع فرشتوں کے اترتے دیکھو گے! ! خود قرآن ایسی تبلیغ رسالت جلد نم صفحه ۶۶ - مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۴۳۹ بار دوم ) رویت کا مکذب ہے۔مسلمانوں کو حضرت عیسی کے نزول کے بارے میں اسی خطرناک انجام سے ڈرنا چاہیئے کہ جو یہودیوں کو ایلیا کے بارے میں ظاہر نص پر زور دینے سے پیش آیا۔جس بات کی پہلے زمانوں میں کوئی بھی نظیر نہ ہو بلکہ اس کے باطل ہونے پر نظیریں موجود ہوں اس بات کے پیچھے پڑ جانا نہایت درجہ کے بیوقوف کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَسْتَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ا یعنی خدا کی سنتوں اور عادات کا نمونہ یہود اور نصاری سے پوچھ لو اگر تمہیں معلوم نہیں۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۳) جاننا چاہیئے کہ دمشق کا لفظ جو مسلم کی حدیث میں وارد ہے یعنی صحیح مسلم میں یہ جو لکھا ہے کہ حضرت مسیح دمشق کے منارہ سفید شرقی کے پاس اتریں گے یہ لفظ ابتداء سے محقق لوگوں کو حیران کرتا چلا آیا ہے کیونکہ بظاہر کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ مسیح کو دمشق سے کیا مناسبت ہے اور دمشق کو مسیح سے کیا خصوصیت ؟۔۔صرف تھوڑی سی توجہ کرنے سے ایک لفظ کی تشریح یعنی دمشق کے لفظ کی حقیقت میرے پر کھولی گئی اور نیز ایک صاف اور صریح کشف میں مجھ پر ظاہر کیا گیا کہ ایک شخص حارث نام یعنی حراث آنے والا جو ابو داؤد کی کتاب میں لکھا ہے یہ خبر صحیح ہے اور یہ پیشگوئی اور مسیح کے آنے کی پیشگوئی در حقیقت یہ دونوں اپنے مصداق کی رو سے ایک ہی ہیں یعنی ان دونوں کا مصداق ایک ہی شخص ہے جو یہ عاجز ہے۔سواوّل میں دمشق کے لفظ کی تعبیر جو الہام کے ذریعہ مجھ پر کھولی گئی بیان کرتا ہوں۔پھر بعد اس کے ابوداؤ د والی پیشگوئی جس طور سے مجھے سمجھائی گئی ہے بیان کروں گا۔پس واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبہ کا نام دمشق رکھا گیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات اور النحل : ۴۴