حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 199
ΑΔΙ کو خدا تعالیٰ اس دل سے اس دل میں رکھ دیتا ہے۔غرض یہ سنت اللہ ہے کہ کبھی گزشتہ انبیاء و اولیاء اس طور سے نزول فرماتے ہیں اور ایلیا نبی نے بیٹی نبی میں ہو کر اسی طور سے نزول کیا تھا۔سو مسیح کے نزول کی سچی حقیقت یہی ہے جو اس عاجز پر ظاہر کی گئی اور اگر اب بھی کوئی باز نہ آوے تو میں مباہلہ کے لئے طیار ہوں۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴ ۲۵ تا ۲۵۶) اگر یہ کہا جائے کہ احادیث صاف اور صریح لفظوں میں بتلا رہی ہیں کہ مسیح ابن مریم آسمان سے اترے گا اور دمشق کے منارہ شرقی کے پاس اس کا اترنا ہوگا اور دو فرشتوں کے کندھوں پر اس کے ہاتھ ہونگے تو اس مصرح اور واضح بیان سے کیونکر انکار کیا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آسمان سے اترنا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ بیچ بیچ خاکی وجود آسمان سے اترے بلکہ صحیح حدیثوں میں تو آسمان کا لفظ بھی نہیں ہے۔اور یوں تو نزول کا لفظ عام ہے جو شخص ایک جگہ سے چل کر دوسری جگہ ٹھہرتا ہے اس کو بھی یہی کہتے ہیں کہ اس جگہ اترا ہے۔جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں جگہ لشکر اترا ہے یا ڈیرہ اترا ہے۔کیا اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ لشکر یا وہ ڈیرہ آسمان سے اترا ہے؟ ما سوائے اس کے خدائے تعالیٰ نے تو قرآن شریف میں صاف فرما دیا ہے کہ آنحضرت ﷺ بھی آسمان سے ہی اترے ہیں بلکہ ایک جگہ فرمایا ہے کہ لوہا بھی ہم نے آسمان سے اتارا ہے۔پس صاف ظاہر ہے کہ یہ آسمان سے اتر نا اس صورت اور رنگ کا نہیں ہے جس صورت پر لوگ خیال کر رہے ہیں۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۳۳۱۳۲) ناحق نزول کے لفظ کے الٹے معنے کرتے ہیں۔خدا کی کتابوں کا یہ قدیم محاورہ ہے کہ جو خدا کی طرف سے آتا ہے اس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوا۔دیکھو انجیل یوحنا باب اآیت ۳۸ اور اسی راز کی طرف اشارہ ہے سورۃ اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ے میں اور نیز آیت ذِكْرًار سُولاً میں لیکن عوام جو جسمانی خیال کے ہوتے ہیں وہ ہر ایک بات کی جسمانی طور پر سمجھ لیتے ہیں۔یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ جیسے حضرت مسیح ان کے زعم میں فرشتوں کے ساتھ آسمان سے اتریں گے۔ایسا ہی۔ان کا یہ بھی تو عقیدہ ہے کہ آنحضرت یہ بھی فرشتوں کے ساتھ آسمان پر گئے تھے بلکہ اس جگہ تو ایک براق بھی ساتھ تھا مگر کس نے آنحضرت کا چڑھنا اور اترنا دیکھا۔اور نیز فرشتوں اور براق کو دیکھا؟ ظاہر ہے کہ منکر لوگ معراج کی رات میں نہ دیکھ سکے کہ فرشتے آنحضرت علی کو آسمان پر لے گئے اور نہ اتر تے دیکھ سکے اسی لئے انہوں نے شور مچادیا کہ معراج جھوٹ ہے۔اب یہ لوگ جو ایسے مسیح کے منتظر القدر : ٢ الطلاق: ۱۲،۱۱