حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 198
۸۸۰ میں پیدا ہوگا اور ان کا امام ہوگا اور کوئی جدا گانہ دین نہ لائیگا اور کسی جدا گانہ نبوت کا دعویٰ نہیں کرے گا بلکہ یہ بھی ظاہر فرمایا ہے کہ مسیح اول اور مسیح ثانی کے حلیہ میں بھی فرق بین ہوگا۔چنانچہ مسیح اول کا حلیہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کی رات میں نظر آیا وہ یہ ہے کہ درمیانہ قد اور سرخ رنگ اور گھنگھر والے بال اور سینہ کشادہ ہے دیکھو صحیح بخاری ص ۴۸۹۔لیکن اسی کتاب میں مسیح ثانی کا حلیہ جناب ممدوح نے یہ فرمایا ہے کہ وہ گندم گوں ہے اور اس کے بال گھنگھر والے نہیں ہیں اور کانوں تک لٹکتے ہیں۔اب ہم سوچتے ہیں کہ کیا یہ دونوں ممیز علامتیں جو مسیح اول اور ثانی میں آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی ہیں کافی طور پر یقین نہیں دلاتیں کہ مسیح اول اور ہے اور مسیح ثانی اور۔ان دونوں کو ابن مریم کے نام سے پکارنا ایک لطیف استعارہ ہے جو باعتبار مشابہت طبع اور روحانیت خاصیت کے استعمال کیا گیا ہے۔توضیح مرام - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۱تا۵۹) واقعات موجودہ کو نظر انداز مت کرو تا تم پر کھل جائے کہ یہ تمام ضلالت وہی سخت دجالیت ہے جس سے ہر یک نبی ڈراتا آیا ہے جس کی بنیاد اس دنیا میں عیسائی مذہب اور عیسائی قوم نے ڈالی۔جس کے لئے ضرور تھا کہ مجد دوقت مسیح کے نام پر آوے کیونکہ بنیاد فساد مسیح کی ہی امت ہے۔اور میرے پر کشفا یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ زہر ناک ہوا جو عیسائی قوم سے دنیا میں پھیل گئی حضرت عیسی کو اس کی خبر دی گئی۔تب ان کی روح روحانی نزول کے لئے حرکت میں آئی اور اس نے جوش میں آ کر اور اپنی امت کو ہلاکت کا مفسده پرداز پا کر زمین پر اپنا قائم مقام اور شبیہ چاہا جو اس کا ایسا ہم طبع ہو کہ گویا وہی ہو۔سو اس کو خدائے تعالیٰ نے وعدہ کے موافق ایک شبیہ عطا کی اور اس میں مسیح کی ہمت اور سیرت اور روحانیت نازل ہوئی اور اس میں اور مسیح میں بشدت اتصال کیا گیا گویا وہ ایک ہی جوہر کے دوٹکڑے بنائے گئے اور مسیح کی تو جہات نے اس کے دل کو اپنا قرار گاہ بنایا اور اس میں ہو کر اپنا تقاضا پورا کرنا چاہا۔پس ان معنوں سے اس کا وجود مسیح کا وجود ٹھہرا اور مسیح کے پر جوش ارادات اس میں نازل ہوئے جن کا نزول الہامی استعارات میں مسیح کا نزول قرار دیا گیا۔یادر ہے کہ یہ ایک عرفانی بھید ہے کہ بعض گزشتہ کاملوں کا ان بعض پر جوز مین پر زندہ موجود ہوں عکس توجہ پڑ کر اور اتحاد خیالات ہو کر ایسا تعلق ہو جاتا ہے کہ وہ ان کے ظہور کو اپنا ظہور سمجھ لیتے ہیں اور ان کے ارادات جیسے آسمان پر ان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں ویسا ہی باذنہ تعالیٰ اس کے دل میں جو زمین پر ہے پیدا ہو جاتے ہیں اور ایسی روح جس کی حقیقت کو اس آدمی سے جو زمین پر ہے متحد کیا جاتا ہے ایک ایسا ملکہ رکھتی ہے کہ جب چاہے پورے طور پر اپنے ارادات اس میں ڈالتی رہے اور ان ارادات