حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 16
۶۹۸ کوٹھہ کو جس کے اندر وہ سوتا تھا آگ لگ جائے تو وہ سب کچھ چھوڑ کر باہر کو نہ بھاگے ؟ تو اب بتلاؤ کہ ایسا تم کیوں کرتے ہو اور کیوں ان تمام موذی چیزوں سے علیحدہ ہو جاتے ہو؟ مگر وہ گناہ کی باتیں جو ابھی میں نے لکھی ہیں ان سے تم علیحدہ نہیں ہوتے ؟ اس کا کیا سبب ہے؟ پس یاد رکھو کہ وہ جواب جو ایک عقلمند پوری سوچ اور عقل کے بعد دے سکتا ہے وہ یہی ہے کہ ان دونوں صورتوں میں علم کا فرق ہے یعنی خدا کے گناہوں میں اکثر انسانوں کا علم ناقص ہے اور وہ گناہوں کو بُرا تو جانتے ہیں مگر شیر اور سانپ کی طرح نہیں سمجھتے اور پوشیدہ طور پر ان کے دلوں میں یہ خیالات ہیں کہ یہ سزائیں یقینی نہیں ہیں۔یہاں تک کہ خدا کے وجود میں بھی اُن کو شک ہے کہ وہ ہے یا نہیں اور اگر ہے تو پھر کیا خبر کہ رُوح کو بعد مرنے کے بقا ہے یا نہیں اور اگر بقا بھی ہے تو پھر کیا معلوم کہ ان جرائم کی کچھ سزا بھی ہے یا نہیں۔بلاشبہ بہتوں کے دلوں کے اندر یہی خیال چھپا ہوا موجود ہے جس پر انہیں اطلاع نہیں لیکن وہ خوف کے تمام مقامات جن سے وہ پر ہیز کرتے ہیں جن کی چند نظیریں میں لکھ چکا ہوں ان کی نسبت سب کو یقین ہے کہ ان چیزوں کے نزدیک جا کر ہم ہلاک ہو جائیں گے اس لئے ان کے نزدیک نہیں جاتے بلکہ ایسی مہلک چیزیں اگر اتفاقاً سامنے بھی آجائیں تو چچنیں مار کر اُن سے دُور بھاگتے ہیں۔سواصل حقیقت یہی ہے کہ ان چیزوں کے دیکھنے کے وقت انسان کو علم یقینی ہے کہ ان کا استعمال موجب ہلاکت ہے مگر مذہبی احکام میں علم یقینی نہیں ہے بلکہ محض ظن ہے اور اُس جگہ رؤیت ہے اور اُس جگہ محض کہانی ہے۔سو مجرد کہانیوں سے گناہ ہرگز دُور نہیں ہو سکتے۔میں اس لئے تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ایک مسیح نہیں ہزار مسیح بھی مصلوب ہو جائیں تو وہ تمہیں حقیقی نجات ہرگز نہیں دے سکتے کیونکہ گناہ سے یا کامل خوف چھڑاتا ہے یا کامل محبت اور مسیح کا صلیب پر مرنا اول خود جھوٹھ اور پھر اس کو گناہ کا جوش بند کرنے سے کوئی بھی تعلق نہیں۔سوچ لو کہ یہ دعوی تاریکی میں پڑا ہوا ہے جس پر نہ تجربہ شہادت دے سکتا ہے اور نہ مسیح کی خود کشی کی حرکت کو دوسروں کے گناہ بخشے جانے سے کوئی تعلق پایا جاتا ہے۔حقیقی نجات کی فلاسفی یہ ہے کہ اسی دنیا میں انسان گناہ کے دوزخ سے نجات پا جائے۔مگر تم سوچ لو کہ کیا تم ایسی کہانیوں سے گناہ کے دوزخ سے نجات پاگئے؟ یا کبھی کسی نے ان بے ہودہ قصوں سے جن میں کچھ بھی سچائی نہیں اور جن کو حقیقی نجات کے ساتھ کوئی بھی رشتہ نہیں نجات پائی ہے؟ مشرق و مغرب میں تلاش کرو کبھی تمہیں ایسے لوگ نہیں ملیں گے جو ان قصوں سے اس حقیقی پاکیزگی تک پہنچ گئے ہوں جس سے خدا نظر آ جاتا ہے اور جس سے نہ صرف گناہ سے بے زاری ہوتی ہے بلکہ بہشت کی صورت پر سچائی کی لذتیں شروع ہو جاتی