حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 15

۶۹۷ شرک، جھوٹ، جھوٹی گواہی دینا، تکبر ، ریا کاری ، حرام خوری، دغا ، دشنام دہی ، دھوکا دینا، بدعہدی ،غفلت اور بدمستی میں زندگی گذارنا، خدا کا شکر نہ کرنا۔خدا سے نہ ڈرنا اُس کے بندوں کی ہمدردی نہ کرنا۔خدا کو پر خوف دل کے ساتھ یاد نہ کرنا ، عیاشی اور دنیا کی لذات میں بکلی محو ہو جانا اور منعم حقیقی کو فراموش کر دینا، دعا اور عاجزی سے کچھ غرض اور واسطہ نہ رکھنا ، فروختنی چیزوں میں کھوٹ ملانا یا کم وزن کرنا یا نرخ بازار سے کم بیچنا، ماں باپ کی خدمت نہ کرنا۔بیویوں سے نیک معاشرت نہ رکھنا ، خاوند کی پورے طور پر اطاعت نہ کرنا، نامحرم مردوں یا عورتوں کو نظر بد سے دیکھنا۔قیموں، ضعیفوں، کمزوروں، در ماندوں کی کچھ پرواہ نہ کرنا۔ہمسایہ کے حقوق کا کچھ بھی لحاظ نہ رکھنا اور اس کو دُکھ دینا۔اپنی بڑائی ثابت کرنے کے لئے دوسرے کی توہین کرنا۔کسی کو دل آزار لفظوں کے ساتھ ٹھٹھا کرنا یا تو ہین کے طور پر کوئی بدنی نقص اس کا بیان کرنا یا کوئی بُرا لقب اس کا رکھنا یا کوئی بے جا تہمت اس پر لگا نا یا خدا پر افترا کرنا اور نعوذ باللہ کوئی جھوٹا دعویٰ نبوت یا رسالت یا منجانب اللہ ہونے کا کر دینا۔یا خدا تعالیٰ کے وجود سے منکر ہو جانا یا ایک عادل بادشاہ سے بغاوت کرنا اور شرارت سے ملک میں فساد برپا کرنا تو یہ تمام گناہ اس علم کے بعد کہ ہر یک ارتکاب سے سزا کا ہونا ایک ضروری امر ہے خود بخو د ترک ہو جاتے ہیں۔شائد پھر کوئی دھو کہ کھا کر یہ سوال پیش کر دے کہ باوجود اس کے کہ جانتے بھی ہیں کہ خدا موجود ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ گناہوں کی سزا ہو گی پھر بھی ہم سے گناہ ہوتا ہے اس لئے ہم کسی اور ذریعہ کے محتاج ہیں۔تو ہم اس کا وہی جواب دیں گے جو پہلے دے چکے ہیں کہ ہر گز ممکن نہیں اور کسی طرح ممکن نہیں کہ تم اس بات کی پوری بصیرت حاصل کر کے کہ گناہ کرنے کے ساتھ ہی ایک بجلی کی طرح تم پر سزا کی آگ برسے گی پھر بھی تم گناہ پر دلیر ہو سکو گے۔یہ ایسی فلاسفی ہے جو کسی طرح ٹوٹ نہیں سکتی۔سوچو اور خوب سوچو کہ جہاں جہاں سزا پانے کا پورا یقین تمہیں حاصل ہے وہاں تم ہرگز اس یقین کے برخلاف کوئی حرکت نہیں کر سکتے۔بھلا بتلاؤ کیا تم آگ میں اپنا ہاتھ ڈال سکتے ہو۔کیا تم پہاڑ کی چوٹی سے نیچے اپنے تئیں گرا سکتے ہو؟ کیا تم کنوئیں میں گر سکتے ہو؟ کیا تم چلتی ہوئی ریل کے آگے لیٹ سکتے ہو؟ کیا تم شیر کے منہ میں اپنا ہاتھ دے سکتے ہو؟ کیا تم دیوانہ کتے کے آگے اپنا پیر کر سکتے ہو؟ کیا تم ایسی جگہ ٹھہر سکتے ہو جہاں بڑی خوفناک صورت سے بجلی گر رہی ہے؟ کیا تم ایسے گھر سے جلد باہر نہیں نکلتے جہاں شہتیر ٹوٹنے لگا ہے یا زلزلہ سے زمین نیچے کو دھسنے لگی ہے؟ بھلا تم میں سے کون ہے جو ایک زہریلہ سانپ کو اپنے پلنگ پر دیکھے اور جلد کو دکر نیچے نہ آ جائے۔بھلا ایک ایسے شخص کا نام تو لو کہ جب اس کے