حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 184

۸۶۶ توسط ان معلموں کے جو مرتبہ کال پر پہنچ گئے ہوں ہر گز سمجھ نہیں آسکتا۔اور دنیا ذرہ ذرہ بات پر ٹھوکریں کھاتی ہے۔پس اگر اسلام میں بعد آنحضرت صلعم ایسے معلم نہیں آئے جن میں ظلی طور پر نور نبوت تھا تو گویا خدا تعالیٰ نے عمداً قرآن کو ضائع کیا کہ اس کے حقیقی اور واقعی طور پر سمجھنے والے بہت جلد دنیا سے اٹھا لئے مگر یہ بات اس کے وعدہ کے برخلاف ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ ہے یعنی ہم نے ہی قرآن کو اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرتے رہیں گے۔اب میں نہیں سمجھ سکتا کہ اگر قرآن کے سمجھنے والے ہی باقی نہ رہے اور اس پر یقینی اور حالی طور پر ایمان لانے والے زاویہ عدم میں مختفی ہو گئے تو پھر قرآن کی حفاظت کیا ہوئی۔کیا حفاظت سے یہ حفاظت مراد ہے کہ قرآن بہت سے خوشخط نسخوں میں تحریر ہو کر قیامت تک صندوقوں میں بند رہے گا جیسے بعض مدفون خزانے گوکسی کے کام نہیں آتے مگر زمین کے نیچے محفوظ پڑے رہتے ہیں کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ اس آیت سے خدا تعالی کا یہی منشا ہے اگر یہی منشا ہے تو ایسی حفاظت کوئی کمال کی بات نہیں بلکہ یہ تو جنسی کی بات ہے اور ایسی حفاظت کا منہ پر لانا دشمنوں سے ٹھٹھا کرانا ہے کیونکہ جبکہ علت غائی مفقود ہو تو ظاہری حفاظت سے کیا فائدہ۔ممکن ہے کہ کسی گڑھے میں کوئی نسخہ انجیل یا توریت کا بھی ایسا ہی محفوظ پڑا ہواور دنیا میں تو ہزار ہا کتا ہیں اس قسم کی پائی جاتی ہیں کہ جو یقینی طور پر بغیر کسی کمی بیشی کے کسی مؤلف کی تالیف سمجھی گئی ہیں تو اس میں کمال کیا ہوا۔اور امت کو خصوصیت کے ساتھ فائدہ کیا پہنچا گو اس سے انکار نہیں کہ قرآن کی حفاظت ظاہری بھی دنیا کی تمام کتابوں سے بڑھ کر ہے اور خارق عادت بھی لیکن خدا تعالیٰ جس کی روحانی امور پر نظر ہے ہر گز اس کی ذات کی نسبت یہ گمان نہیں کر سکتے کہ اتنی حفاظت سے مراد صرف الفاظ اور حروف کا محفوظ رکھنا ہی مراد لیا ہے حالانکہ ذکر کا لفظ بھی صریح گواہی دے رہا ہے کہ قرآن بحیثیت ذکر ہونے کے قیامت تک محفوظ رہے گا اور اس کے حقیقی ذاکر ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے اور اس پر ایک اور آیت بھی بین قرینہ ہے اور وہ یہ ہے۔بَلْ هُوَ ايَتٌ بَيْنَتُ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ کے یعنی قرآن آیات بینات ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔پس ظاہر ہے کہ اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ مومنوں کو قرآن کریم کا علم اور نیز اس پر عمل عطا کیا گیا ہے اور جبکہ قرآن کی جگہ مومنوں کے سینے ٹھہرے تو پھر یہ آیت کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ بجز اس کے اور کیا معنے رکھتی ہے کہ قرآن سینوں سے محو نہیں کیا جائے گا۔۔الحجر : ١٠ العنكبوت:۵۰