حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 181
۸۶۳ صدیوں میں تو کجا خود دوسری صدی کے لوگوں یعنی تابعین میں بھی نہیں پایا گیا۔اس کی کیا وجہ تھی ؟ یہی تو تھی کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس مرد صادق کا منہ دیکھا تھا جس کے عاشق اللہ ہونے کی گواہی کفار قریش کے منہ سے بھی بے ساختہ نکل گئی۔اور روز کی مناجاتوں اور پیار کے سجدوں کو دیکھ کر اور فنا فی الاطاعت کی حالت اور کمال محبت اور دلدادگی کے منہ پر روشن نشانیاں اور اس پاک منہ پر نور الہی برستا مشاہدہ کر کے کہتے تھے عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلى رَبِّهِ۔کہ محمد اپنے رب پر عاشق ہو گیا ہے۔اور پھر صحابہ نے صرف وہ صدق اور محبت اور اخلاص ہی نہیں دیکھا بلکہ اس پیار کے مقابل پر جو ہمارے سید محمد ہے کے دل سے ایک دریا کی طرح جوش مارتا تھا خدا تعالیٰ کے پیار کو بھی تائیدات خارق عادت کے رنگ میں مشاہدہ کیا۔تب ان کو پتہ لگ گیا کہ خدا ہے اور ان کے دل بول اٹھے کہ وہ خدا اس مرد کے ساتھ ہے۔انہوں نے اس قدر عجائبات الہیہ دیکھے اور اس قدر نشان آسمانی مشاہدہ کئے کہ ان کو کچھ بھی اس بات میں شک نہ رہا کہ فی الحقیقت ایک اعلی ذات موجود ہے جس کا نام خدا ہے اور جس کے قبضہ قدرت میں ہر یک امر ہے اور جس کے آگے کوئی بات بھی انہونی نہیں۔اسی وجہ سے انہوں نے وہ کام صدق وصفا کے دکھلائے اور وہ جانفشانیاں کیں کہ انسان کبھی کر نہیں سکتا جب تک اس کے تمام شک وشبہ دور نہ ہو جائیں اور انہوں نے بچشم خود دیکھ لیا کہ وہ ذات پاک اسی میں راضی ہے کہ انسان اسلام میں داخل ہو اور اس کے رسول کریم کی بدل و جان متابعت اختیار کرے تب اس حق الیقین کے بعد جو کچھ انہوں نے متابعت دکھلائی اور جو کچھ انہوں نے متابعت کے جوش سے کام کئے اور جس طرح پر اپنی جانوں کو اپنے برگزیدہ ہادی کے آگے پھینک دیا یہ وہ باتیں ہیں کہ کبھی ممکن ہی نہیں کہ انسان کو حاصل ہوسکیں جب تک کہ وہی بہار اس کی نظر کے سامنے نہ ہو جو صحابہ پر آئی تھی اور جبکہ ان کمالات کو پیدا کرنا بغیر وجود ان وسائل کے محالات میں سے ہے اور نجات کا یقینی طور پر حاصل ہونا بھی بغیر ذریعہ ان کمالات کے از قبیل محال تو ضروری ہوا کہ وہ خدا وند کریم جس نے ہر ایک کو نجات کیلئے بلایا ہے ایسا ہی انتظام ہر یک صدی کے لئے رکھے تا اس کے بندے کسی زمانہ میں حق الیقین کے مراتب سے محروم نہ رہیں۔اور یہ کہنا کہ ہمارے لئے قرآن اور احادیث کافی ہیں اور صحبت صادقین کی ضرورت نہیں یہ خود مخالفت تعلیم قرآن ہے کیونکہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِيْنَ ے اور صادق وہ ہیں جنہوں نے صدق کو علی وجہ البصیرت شناخت کیا اور پھر اس پر دل و جان سے قائم ہو گئے۔اور یہ اعلیٰ درجہ التوبة: ١١٩