حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 169

۸۵۱ سکھلاتا ہے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ا پس اگر یہ امت پہلے نبیوں کی وارث نہیں اور اس انعام میں سے ان کو کچھ حصہ نہیں تو یہ دعا کیوں سکھلائی گئی۔افسوس کہ تعصب اور نادانی کے جوش سے کوئی اس آیت میں غور نہیں کرتا۔بڑا شوق رکھتے ہیں کہ حضرت عیسے آسمان سے نازل ہوں مگر خدا کا کلام قرآن شریف گواہی دیتا ہے کہ وہ مرگیا اور اس کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَأَوَيْنَهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ و مَحِيْنِ " یعنی ہم نے عیسی اور اس کی ماں کو یہودیوں کے ہاتھ سے بچا کر ایک ایسے پہاڑ میں پہنچا دیا جو آرام اور خوشحالی کی جگہ تھی اور مصفی پانی کے چشمے اس میں جاری تھے سو وہی کشمیر ہے۔اسی وجہ سے حضرت مریم کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں اور کہتے ہیں کہ وہ بھی حضرت عیسی کی طرح مفقود ہے۔یہ کس قدر ظلم ہے جو نادان مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت مکالمه مخاطبہ الہیہ سے بے نصیب ہے اور خود حدیثیں پڑھتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں اسرائیلی نبیوں کے مشابہ لوگ پیدا ہونگے اور ایک ایسا ہوگا کہ ایک پہلو سے نبی ہوگا اور ایک پہلو سے امتی۔وہی مسیح موعود کہلائے گا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۹۹ تا ۱۰۴ حاشیه ) میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اسلام ایسے بدیہی طور پر سچا ہے کہ اگر تمام کفار روئے زمین دعا کرنے کیلئے ایک طرف کھڑے ہوں اور ایک طرف صرف میں اکیلا اپنے خدا کے جناب میں کسی امر کیلئے رجوع کروں تو خدا میری ہی تائید کرے گا مگر نہ اس لئے کہ سب سے میں ہی بہتر ہوں بلکہ اس لئے کہ میں اس کے رسول پر دلی صدق سے ایمان لایا ہوں اور جانتا ہوں کہ تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں یعنی وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں کیونکہ وہ محمدی نبوت ہے یعنی اس کا ظل ہے اور اسی کے ذریعہ سے ہے اور اسی کا مظہر ہے اور اسی سے فیض یاب ہے۔خدا اس شخص کا دشمن ہے جو قرآن شریف کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہے اور محمدی شریعت کے برخلاف چلتا ہے اور اپنی شریعت چلانا چاہتا ہے اور آنحضرت ﷺ کی پیروی نہیں کرتا بلکہ آپ کچھ بنا چاہتا ہے۔مگر خدا اس شخص سے پیار کرتا ہے جو اس کی کتاب قرآن شریف کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اس کے رسول حضرت محمد علی کو در حقیقت خاتم الانبیاء سمجھتا ہے اور اس کے فیض کا اپنے تئیں محتاج جانتا ہے۔پس ایسا شخص خدا تعالیٰ کی جناب میں الفاتحة ، المؤمنون: ۵۱