حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 165

۸۴۷ آنحضرت ﷺ پر ختم ہوگئی ہے مگر ظلی نبوت جس کے معنے ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پانا وہ قیامت تک باقی رہے گی تا انسانوں کی تکمیل کا دروازہ بند نہ ہو اور تا یہ نشان دنیا سے مٹ نہ جائے کہ آنحضرت عے کی ہمت نے قیامت تک یہی چاہا ہے کہ مکالمات اور مخاطبات الہیہ کے دروازے کھلے رہیں اور معرفت الہیہ جو مدار نجات ہے مفقود نہ ہو جائے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۰،۲۹) اس جگہ یہ سوال طبعا ہو سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی اُمت میں بہت سے نبی گزرے ہیں پس اس حالت میں موسیٰ کا افضل ہونا لازم آتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ جس قدر نبی گزرے ہیں ان سب کو خدا نے براہ راست چن لیا تھا۔حضرت موسیٰ کا اس میں کچھ بھی دخل نہیں تھا لیکن اس اُمت میں آنحضرت عمے کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیا ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔اس کثرت فیضان کی کسی نبی میں نظیر نہیں مل سکتی۔اسرائیلی نبیوں کو الگ کر کے باقی تمام لوگ اکثر موسوی امت میں ناقص پائے جاتے ہیں۔رہے انبیاء سو ہم بیان کر چکے ہیں کہ انہوں نے حضرت موسیٰ سے کچھ نہیں پایا بلکہ وہ براہ راست نبی کئے گئے مگر اُمت محمدیہ میں سے ہزار ہا لوگ محض پیروی کی وجہ سے ولی کئے گئے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۰ حاشیہ ) مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب جب قادیان میں آئے تو صرف ان کو یہی فائدہ نہ ہوا کہ انہوں نے مفصل طور پر میرے دعوے کے دلائل سنے بلکہ ان چند مہینوں کے عرصہ میں جو وہ قادیان میں میرے پاس رہے اور ایک سفر جہلم تک بھی میرے ساتھ کیا بعض آسمانی نشان بھی میری تائید میں انہوں نے مشاہدہ کئے۔ان تمام براہین اور انوار اور خوارق کے دیکھنے کی وجہ سے وہ فوق العادت یقین سے بھر گئے اور طاقت بالا ان کو کھینچ کر لے گئی۔میں نے ایک موقعہ پر ایک اعتراض کا جواب بھی ان کو سمجھایا تھا جس سے وہ بہت خوش ہوئے تھے اور وہ یہ کہ جس حالت میں آنحضرت علیے مثیل موسی ہیں اور آپ کے خلفاء مثیل انبیاء بنی اسرائیل ہیں تو پھر کیا وجہ کہ مسیح موعود کا نام احادیث میں نبی کر کے پکارا گیا ہے مگر دوسرے تمام خلفاء کو یہ نام نہیں دیا گیا سو میں نے ان کو یہ جواب دیا کہ جبکہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء تھے اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تھا۔اس لئے اگر تمام خلفاء کو نبی کے نام سے پکارا جاتا تو امرختم نبوت مشتبہ ہو جاتا۔اور اگر کسی ایک فرد کو بھی نبی کے نام سے نہ پکارا جاتا تو عدم مشابہت کا اعتراض باقی رہ جاتا کیونکہ موسیٰ کے خلفاء نبی ہیں۔اس لئے حکمت الہی نے یہ تقاضا کیا کہ پہلے بہت سے خلفاء کو بر عایت ختم نبوت بھیجا جائے اور ان کا نام نبی نہ رکھا جائے اور یہ مرتبان کو نہ دیا جائے تاختم نبوت پر یہ