حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 162

۸۴۴ اسلام میں نبوت اسلام میں اس نبوت کا دروازہ تو بند ہے جو اپنا سکہ جماتی ہو۔ایام اصلح۔روحانی خزائن جلد۴ اصفحہ ۳۰۸) خوب یاد رکھنا چاہئے کہ نبوت تشریعی کا دروازہ بعد آنحضرت علیہ کے بالکل مسدود ہے اور قرآن مجید کے بعد اور کوئی کتاب نہیں جو نئے احکام سکھائے یا قرآن شریف کا حکم منسوخ کرے یا اس کی پیروی معطل کرے۔بلکہ اس کا عمل قیامت تک ہے۔(رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۱ حاشیه ) میرے پر یہی کھولا گیا ہے کہ حقیقی نبوت کے دروازے خاتم النبین ﷺ کے بعد بکلی بند ہیں۔اب نہ کوئی جدید نبی حقیقی معنوں کے رو سے آ سکتا ہے اور نہ کوئی قدیم نبی مگر ہمارے ظالم مخالف ختم نبوت کے دروازوں کو پورے طور پر بند نہیں سمجھتے بلکہ ان کے نزدیک مسیح اسرائیلی نبی کے واپس آنے کے لئے ابھی ایک کھڑ کی کھلی ہے۔(سراج منیر۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۶،۵) نبی کے معنے صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو۔اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔پس ایک امتی کو ایسا نبی قرار دینے سے کوئی محذور لازم نہیں آتا۔بالخصوص اس حالت میں کہ وہ امتی اپنے اسی نبی متبوع سے فیض پانے والا ہو بلکہ فساد اس حالت میں لازم آتا ہے کہ اس امت کو آنحضرت ﷺ کے بعد قیامت تک مکالمات الہیہ سے بے نصیب قرار دیا جائے۔وہ دین دین نہیں ہے اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہوسکتا کہ مکالمات الہیہ سے مشرف ہو سکے۔وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے اور خدائے حی و قیوم کی آواز سننے اور اس کے مکالمات سے قطعی نا امیدی ہے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۰۶)