حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 156

۸۳۸ لے صرف انبیاء علیہم السلام ہیں اور اگر یہ مقدس لوگ دنیا میں نہ آتے تو صراط مستقیم کا یقینی طور پر پانا ایک ممتنع اور محال امر تھا۔اگر چہ زمین و آسمان پر غور کر کے اور ان کی ترتیب ابلغ اور محکم پر نظر ڈال کر ایک صحیح الفطرت اور سلیم العقل انسان دریافت کر سکتا ہے کہ اس کا رخانہ پُر حکمت کا بنانے والا کوئی ضرور ہونا چاہئے لیکن اس فقرہ میں کہ ضرور ہونا چاہئے اور اس فقرہ میں کہ واقعی وہ موجود ہے بہت فرق ہے۔واقعی وجود پر اطلاع دینے والے صرف انبیاء علیہم السلام ہیں جنہوں نے ہزار ہا نشانوں اور معجزات سے دنیا پر ثابت کر دکھایا کہ وہ ذات جو مخفی در مخفی اور تمام طاقتوں کی جامع ہے درحقیقت موجود ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اس قدر عقل بھی کہ نظام عالم کو دیکھ کر صانع حقیقی کی ضرورت محسوس ہو یہ مرتبہ عقل بھی نبوت کی شعاعوں سے ہی مستفیض ہے۔اگر انبیاء علہیم السلام کا وجود نہ ہوتا تو اس قدر عقل بھی کسی کو حاصل نہ ہوتی۔اس کی مثال یہ ہے کہ اگر چہ زمین کے نیچے پانی بھی ہے مگر اس پانی کا بقا اور وجود آسمانی پانی سے وابستہ ہے۔جب کبھی ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ آسمان سے پانی نہیں برستا تو زمینی پانی بھی خشک ہو جاتے ہیں۔اور جب آسمان سے پانی برستا ہے تو زمین میں بھی پانی جوش مارتا ہے اسی طرح انبیاء علہیم السلام کے آنے سے عقلیں تیز ہو جاتی ہیں۔اور عقل جو زمینی پانی ہے اپنی حالت میں ترقی کرتی ہے۔اور پھر جب ایک مدت دراز اس بات پر گزرتی ہے کہ کوئی نبی مبعوث نہیں ہوتا تو عقلوں کا زمینی پانی گندہ اور کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اور دنیا میں بت پرستی اور شرک اور ہر ایک قسم کی بدی پھیل جاتی ہے۔پس جس طرح آنکھ میں ایک روشنی ہے اور وہ باوجود اس روشنی کے پھر بھی آفتاب کی محتاج ہے۔اسی طرح دنیا کی عقلیں جو آنکھ سے مشابہ ہیں ہمیشہ آفتاب نبوت کی محتاج رہتی ہیں اور جبھی کہ وہ آفتاب پوشیدہ ہو جائے ان میں فی الفور کدورت اور تاریکی پیدا ہو جاتی ہے۔کیا تم صرف آنکھ سے کچھ دیکھ سکتے ہو؟ ہرگز نہیں۔اسی طرح تم بغیر نبوت کی روشنی کے بھی کچھ نہیں دیکھ سکتے۔پس چونکہ قدیم سے اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے خدا کا شناخت کرنا نبی کے شناخت کرنے سے وابستہ ہے۔اس لئے یہ خود غیر ممکن اور محال ہے کہ بجز ذریعہ نبی کے توحید مل سکے۔نبی خدا کی صورت دیکھنے کا آئینہ ہوتا ہے۔اس آئینہ کے ذریعہ سے خدا کا چہرہ نظر آتا ہے۔جب خدا تعالیٰ اپنے تئیں دنیا پر ظاہر کرنا چاہتا ہے تو نبی کو جو اس کی قدرتوں کا مظہر ہے دنیا میں بھیجتا ہے اور اپنی وحی اس پر نازل کرتا ہے اور اپنی ربوبیت کی طاقتیں اس کے ذریعہ سے دکھلاتا ہے تب دنیا کو پتہ لگتا ہے کہ خدا موجود ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۱۴ تا ۱۱۶)