حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 151

۸۳۳ امراض روحانی یا جسمانی کے الزام کا موجب ٹھہرتا ہے۔اسی طرح ان کے رہنے کے مکانات میں بھی خدائے عزوجل ایک برکت رکھ دیتا ہے۔وہ مکان بلاؤں سے محفوظ رہتا ہے۔خدا کے فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔اسی طرح ان کے شہر یا گاؤں میں بھی ایک برکت اور خصوصیت دی جاتی ہے۔اسی طرح اس خاک کو بھی کچھ برکت دی جاتی ہے جس پر ان کا قدم پڑتا ہے۔اسی طرح اس درجہ کے لوگوں کی تمام خواہشیں بھی اکثر اوقات پیشگوئی کا رنگ پیدا کر لیتی ہیں یعنی جب کسی چیز کے کھانے یا پینے یا پہننے یا دیکھنے کی بشدت ان کے اندر خواہش پیدا ہوتی ہے تو وہ خواہش ہی پیشگوئی کی صورت پکڑ لیتی ہے اور جب قبل از وقت اضطرار کے ساتھ ان کے دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے تو وہ چیز میسر آ جاتی ہے۔اسی طرح ان کی رضامندی اور ناراضگی بھی پیشگوئی کا رنگ اپنے اندر رکھتی ہے پس جس شخص پر وہ شدت سے راضی اور خوش ہوتے ہیں اس کے آئندہ اقبال کے لئے یہ بشارت ہوتی ہے اور جس پر وہ بشدت ناراض ہوتے ہیں اس کے آئندہ ادبار اور تباہی پر دلیل ہوتی ہے کیونکہ باعث فنا فی اللہ ہونے کے وہ سرائے حق میں ہوتے ہیں اور ان کی رضا اور غضب خدا کا رضا اور غضب ہوتا ہے اور نفس کی تحریک سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے یہ حالات ان میں پیدا ہوتے ہیں۔اسی طرح ان کی دعا اور ان کی توجہ بھی معمولی دعاؤں اور تو جہات کی طرح نہیں ہوتی بلکہ اپنے اندر ایک شدید اثر رکھتی ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ اگر قضاء مبرم اور ائل نہ ہو اور ان کی توجہ اپنی تمام شرائط کے ساتھ اس بلا کے دور کرنے کے لئے مصروف ہو جائے تو خدا تعالیٰ اس بلا کو دور کر دیتا ہے گو ایک فرد واحد یا چند کس پر وہ بلا نازل ہو یا ایک ملک پر وہ بلا نازل ہو یا ایک بادشاہ وقت پر وہ بلا نازل ہو۔اس میں اصل یہ ہے کہ وہ اپنے وجود سے فانی ہوتے ہیں۔اس لئے اکثر اوقات ان کے ارادہ کا خدا تعالیٰ کے ارادہ سے توارد ہو جاتا ہے۔پس جب شدت سے ان کی توجہ کسی بلا کے دور کرنے کے لئے مبذول ہو جاتی ہے اور جیسا کہ درد دل کے ساتھ اقبال علی اللہ چاہئے میسر آ جاتا ہے تو سنت الہیہ اسی طرح پر واقع ہے کہ خدا ان کی سنتا ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے کہ خدا ان کی دعا کو رد نہیں کرتا اور کبھی ان کی عبودیت ثابت کرنے کے لئے دعاسنی نہیں جاتی تا جاہلوں کی نظر میں خدا کے شریک نہ ٹھہر جائیں۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶ تا ۲۰)