حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 150
۸۳۲ ہوتا ہے یہ شرف تو اس کی زبان کو دیا جاتا ہے کہ کیا با اعتبار کمیت اور کیا باعتبار کیفیت ایسا بے مثل کلام اس کی زبان پر جاری کیا جاتا ہے کہ دنیا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور اس کی آنکھ کو کشفی قوت عطا کی جاتی ہے جس سے وہ مخفی درمخفی خبروں کو دیکھ لیتا ہے اور بسا اوقات لکھی ہوئی تحریریں اس کی نظر کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔اور مردوں سے زندوں کی طرح ملاقات کر لیتا ہے اور بسا اوقات ہزاروں کوس کی چیزیں اس کی نظر کے سامنے ایسی آجاتی ہیں گویا وہ پیروں کے نیچے پڑی ہیں۔ایسا ہی اس کے کان کو بھی مغیبات کے سننے کی قوت دی جاتی ہے اور اکثر اوقات وہ فرشتوں کی آواز کوسن لیتا ہے اور بے قراریوں کے وقت ان کی آواز سے تسلی پاتا ہے۔اور عجیب تر یہ کہ بعض اوقات جمادات اور نباتات اور حیوانات کی آواز بھی اس کو پہنچ جاتی ہے۔۔فلسفی کو منکر حنانه است از حواس انبیاء بیگانه است ! اسی طرح اس کی ناک کو بھی غیبی خوشبو سونگھنے کی ایک قوت دی جاتی ہے اور بسا اوقات وہ بشارت کے امور کو سونگھ لیتا ہے اور مکروہات کی بد بو اس کو آ جاتی ہے علی ہذا القیاس اس کے دل کو قوت فراست عطا کی جاتی ہے اور بہت سی باتیں اس کے دل میں پڑ جاتی ہیں اور وہ صحیح ہوتی ہیں۔علی ھذا القیاس شیطان اس پر تصرف کرنے سے محروم ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں شیطان کا کوئی حصہ نہیں رہتا اور باعث نہایت درجہ فنافی اللہ ہونے کے اس کی زبان ہر وقت خدا کی زبان ہوتی ہے اور اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور اگر چہ اس کو خاص طور پر الہام بھی نہ ہو تب بھی جو کچھ اس کی زبان پر جاری ہوتا ہے وہ اس کی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے کیونکہ نفسانی ہستی اس کی بکلی جل جاتی ہے اور سفلی ہستی پر ایک موت طاری ہو کر ایک نئی اور پاک زندگی اس کوملتی ہے جس پر ہر وقت انوار الہیہ منعکس ہوتے رہتے ہیں۔اسی طرح اس کی پیشانی کو ایک نور عطا کیا جاتا ہے جو بجر عشاق الہی کے اور کسی کو نہیں دیا جا تا اور بعض خاص وقتوں میں وہ نور ایسا چمکتا ہے کہ ایک کافر بھی اس کو محسوس کر سکتا ہے بالخصوص ایسی حالت میں جبکہ وہ لوگ ستائے جاتے اور نصرت الہی حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے ہیں۔پس وہ اقبال علی اللہ کا وقت ان کے لئے ایک خاص وقت ہوتا ہے اور خدا کا نور ان کی پیشانی میں اپنا جلوہ ظاہر کرتا ہے۔ایسا ہی ان کے ہاتھوں میں اور پیروں میں اور تمام بدن میں ایک برکت دی جاتی ہے۔جس کی وجہ سے ان کا پہنا ہوا کپڑا بھی متبرک ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات کسی شخص کو چھونا یا اس کو ہاتھ لگا نا اس کے کے وہ فلسفی جو رونے والے ستون کا منکر ہے وہ انبیاء کی باطنی حسوں سے بے خبر ہے۔