حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 143

۸۲۵ رحمت برستی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔وہ پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں ہوتے ہیں۔خدا ان کے لئے اس شیر مادہ سے زیادہ غصہ ظاہر کرتا ہے جس کے بچے کو کوئی لینے کا ارادہ کرے۔وہ گناہ سے معصوم۔وہ دشمنوں کے حملوں سے معصوم وہ تعلیم کی غلطیوں سے بھی معصوم ہوتے ہیں۔وہ آسمان کے بادشاہ ہوتے ہیں۔خدا عجیب طور پر ان کی دعائیں سنتا ہے اور عجیب طور پر ان کی قبولیت ظاہر کرتا ہے یہاں تک کہ وقت کے بادشاہ ان کے دروازوں پر آتے ہیں۔ذوالجلال کا خیمہ ان کے دلوں میں ہوتا ہے اور ایک رعب خدائی ان کو عطا کیا جاتا ہے اور شاہانہ استغنا ان کے چہروں سے ظاہر ہوتا ہے۔وہ دنیا اور اہل دنیا کو ایک مرے ہوئے کیڑے سے بھی کمتر سمجھتے ہیں۔فقط ایک کو جانتے ہیں اور اس ایک کے خوف کے نیچے ہر دم گداز ہوتے رہتے ہیں۔دنیا ان کے قدموں پر گری جاتی ہے گویا خدا انسان کا جامہ پہن کر ظاہر ہوتا ہے۔وہ دنیا کا نور اور اس نا پائیدار عالم کا ستون ہوتے ہیں۔وہی سچا امن قائم کرنے کے شہزادے اور ظلمتوں کے دُور کرنے کے آفتاب ہوتے ہیں۔وہ نہاں در نہاں اور غیب الغیب ہوتے ہیں۔کوئی ان کو پہچانتا نہیں مگر خدا اور کوئی خدا کو پہچانتا نہیں مگر وہ۔وہ خدا نہیں ہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ خدا سے الگ ہیں۔وہ ابدی نہیں ہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ کبھی مرتے ہیں۔پس کیا ایک نا پاک اور خبیث آدمی جس کا دل گنده ، خیالات گندے، زندگی گندی ہے ان سے مشابہت پیدا کر سکتا ہے۔ہرگز نہیں مگر وہی مشابہت جو کبھی ایک چمکیلے پتھر کو ہیرے کے ساتھ ہو جاتی ہے۔مردان خدا جب دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں تو ان کی عام برکات کی وجہ سے آسمان سے ایک قسم کا انتشار روحانیت ہوتا ہے اور طبائع میں تیزی پیدا ہو جاتی ہے اور جن کے دل اور دماغ کچی خوابوں سے کچھ مناسب رکھتے ہیں ان کو کچی خوا ہیں آنی شروع ہو جاتی ہیں لیکن در پردہ یہ تمام انہی کے وجود با وجود کی تاثیر ہوتی ہے۔جیسا کہ مثلاً جب برسات کے دنوں میں پانی برستا ہے تو کنوؤں کا پانی بھی بڑھ جاتا ہے اور ہر ایک قسم کا سبزہ نکلتا ہے لیکن اگر آسمان کا پانی چند سال تک نہ بر سے تو کنوؤں کا پانی بھی خشک ہو جاتا ہے۔سو وہ لوگ در حقیقت آسمان کا پانی ہوتے ہیں اور ان کے آنے سے زمین کے پانی بھی اپنا سیلاب دکھلاتے ہیں۔(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۱۷۰ تا ۱۷۲) پانچواں لطیفہ سورۃ فاتحہ میں یہ ہے کہ وہ اس اتم اور اکمل تعلیم پر مشتمل ہے کہ جو طالب حق کے لئے ضروری ہے اور جو ترقیات قربت اور معرفت کے لئے کامل دستور العمل ہے کیونکہ ترقیات قربت کا شروع اس نقطۂ سیر سے ہے کہ جب سالک اپنے نفس پر ایک موت قبول کر کے اور سختی اور آزار کشی کو روا رکھ کر