حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 138
۸۲۰ نفس امارہ کو ہے کیونکہ اس مرتبہ پر صرف ایک لڑائی باقی رہ جاتی ہے اور وہ وقت قریب آ جاتا ہے کہ حضرت عزت جل شانہ کے فرشتے اس وجود کی تمام آبادی کو فتح کر لیں اور اس پر اپنا پورا تصرف اور دخل کر لیں اور تمام نفسانی سلسلہ کو درہم برہم کر دیں اور نفسانی قویٰ کے قریہ کو ویران کر دیں اور اس کے نمبرداروں کو ذلیل اور پست کر کے دکھلا دیں اور پہلی سلطنت پر ایک تباہی ڈال دیں۔اور انقلاب سلطنت پر ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔اِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا اَذِلَّةٌ وَكَذَلِكَ يَفْعَلُونَ ے اور یہ مومن کے لئے ایک آخری امتحان اور آخری جنگ ہے جس پر اس کے تمام مراتب سلوک ختم ہو جاتے ہیں اور اس کا سلسلہ ترقیات جو کسب اور کوشش سے ہے انتہا تک پہنچ جاتا ہے اور انسانی کوششیں اپنے اخیر نقطہ تک منزل طے کر لیتی ہیں۔پھر بعد اس کے صرف موہبت اور فضل کا کام باقی رہ جاتا ہے جو خلق آخر کے متعلق ہے۔اور یہ پانچویں حالت چوتھی حالت سے مشکل تر ہے کیونکہ چوتھی حالت میں تو صرف مومن کا کام یہ ہے کہ شہوات محرمہ نفسانیہ کو ترک کرے مگر پانچویں حالت کے مومن کا کام یہ ہے کہ نفس کو بھی ترک کر دے اور اس کو خدا تعالیٰ کی امانت سمجھ کر خدا تعالیٰ کی طرف واپس کرے اور خدا کے کاموں میں اپنے نفس کو وقف کر کے اس سے خدمت لے اور خدا کی راہ میں بذل نفس کرنے کا ارادہ رکھے اور اپنے نفس کی نفی وجود کے لئے کوشش کرے کیونکہ جب تک نفس کا وجود باقی ہے گناہ کرنے کے لئے جذبات بھی باقی ہیں جو تقویٰ کے برخلاف ہیں اور نیز جب تک وجود نفس باقی ہے ممکن نہیں کہ انسان تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مار سکے یا پورے طور پر خدا کی امانتوں اور عہدوں یا مخلوق کی امانتوں اور عہدوں کو ادا کر سکے۔لیکن جیسا کہ بخل بغیر تو کل اور خدا کی رازقیت پر ایمان لانے کے ترک نہیں ہوسکتا اور شہوات نفسانیہ محرمہ بغیر استیلاء ہیبت اور عظمت الہی اور لذات روحانیہ کے چھوٹ نہیں سکتیں ایسا ہی یہ مرتبہ عظمیٰ کے ترک نفس کر کے تمام امانتیں خدا تعالیٰ کی اس کو واپس دی جائیں کبھی حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ ایک تیز آندھی عشق الہی کی چل کر کسی کو اس کی راہ میں دیوانہ نہ بناوے یہ تو در حقیقت عشق الہی کے مستوں اور دیوانوں کے کام ہیں۔دنیا کے عقلمندوں کے کام نہیں ؎ آسمان بار امانت نتوانست کشید قرعہ فال بنام من دیوانه زدند سے اسی کی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے۔اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ النمل: ۳۵ فرشتے اس امانت کا بوجھ نہ اٹھا سکے آخر قرعہ فال مجھ دیوانہ کے نام ہی نکلا۔