حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 137

۸۱۹ شہوات نفسانیہ کا تعلق بہ نسبت مال کے تعلق کے بہت پیارا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ مال کو جو اس کے نزد یک مدار آسائش ہے بڑی خوشی سے شہوات نفسانیہ کی راہ میں فدا کر دیتا ہے اور اس حالت کے خوفناک جوش کی شہادت میں یہ آیت کافی ہے۔وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ بُرْهَانَ ربه لا یعنی یہ ایسا منہ زور جوش ہے جو اس کا فرو ہونا کسی برہان قوی کا محتاج ہے۔پس ظاہر ہے کہ درجہ چہارم پر قوت ایمانی بہ نسبت درجہ سوم کے بہت قوی اور زبردست ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت اور جبروت کا مشاہدہ بھی پہلے کی نسبت اس میں زیادہ ہوتا ہے اور نہ صرف اس قدر بلکہ یہ بھی اس میں نہایت ضروری ہے کہ جس لذت ممنوعہ کو دور کیا گیا ہے اس کے عوض میں روحانی طور پر کوئی لذت بھی حاصل ہو اور جیسا کہ بخل کے دور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی رازقیت پر قوی ایمان درکار ہے اور خالی جیب ہونے کی حالت میں ایک قوی تو کل کی ضرورت ہے تا بخل بھی دور ہو اور غیبی فتوح پر امید بھی پیدا ہو جائے ایسا ہی شہوات ناپاک نفسانیہ کے دور کرنے کے لئے اور آتش شہوت سے مخلصی پانے کے لئے اس آگ کے وجود پر قومی ایمان ضروری ہے جو جسم اور روح دونوں کو عذاب شدید میں ڈالتی ہے اور نیز ساتھ اس کے اس روحانی لذت کی ضرورت ہے جو ان کثیف لذتوں سے بے نیاز اور مستغنی کر دیتی ہے۔جو شخص شہوات نفسانیہ محرمہ کے پنجہ میں اسیر ہے وہ ایک اثر دہا کے منہ میں ہے جو نہایت خطرناک زہر رکھتا ہے۔پس اس سے ظاہر ہے کہ جیسا کہ لغو حرکات کی بیماری سے بخل کی بیماری بڑھ کر ہے۔اسی طرح بخل کی بیماری کے مقابل پر شہوات نفسانیہ محرمہ کے پنجہ میں اسیر ہونا سب بلاؤں سے زیادہ بلا ہے جو خدائے تعالیٰ کے ایک خاص رحم کی محتاج ہے اور جب خدا تعالیٰ کسی کو اس بلا سے نجات دینا چاہتا ہے تو اپنی عظمت اور ہیبت اور جبروت کی ایسی تجلی اس پر کرتا ہے جس سے شہوات نفسانیہ محرمہ پارہ پارہ ہو جاتی ہیں اور پھر جمالی رنگ میں اپنی لطیف محبت کا ذوق اس کے دل میں ڈالتا ہے اور جس طرح شیر خوار بچہ دودھ چھوڑنے کے بعد صرف ایک رات تلخی میں گزارتا ہے بعد اس کے اس دودھ کو ایسا فراموش کر دیتا ہے کہ چھاتیوں کے سامنے بھی اگر اس کے منہ کو رکھا جائے تب بھی دودھ پینے سے نفرت کرتا ہے۔یہی نفرت شہوات محرمہ نفسانیہ سے اس راستباز کو ہو جاتی ہے جس کو نفسانی دودھ چھڑا کر ایک روحانی غذا اس کے عوض میں دی جاتی ہے۔پھر چوتھی حالت کے بعد پانچویں حالت ہے جس کے مفاسد سے نہایت سخت اور شدید محبت يوسف: ۲۵