حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 136

ΔΙΑ ہے اور ایک آگ کی طرح مومن کے دل پر پڑ کر تمام خیالات لغو اس کے ایک دم میں بھسم کر دیتی ہے۔اور یہ جلوہ عظمت اور جبروت الہی کا اس قدر حضرت عزت کی محبت اس کے دل میں پیدا کرتا ہے کہ لغو کاموں اور لغوشغلوں کی محبت پر غالب آ جاتا ہے اور ان کو دفع اور دور کر کے ان کی جگہ لے لیتا ہے اور تمام بے ہودہ شغلوں سے دل کو سرد کر دیتا ہے۔تب لغو کاموں سے دل کو ایک کراہت پیدا ہو جاتی ہے۔پھر لغوشغلوں اور لغو کاموں کے دور ہونے کے بعد ایک تیسری خراب حالت مومن میں باقی رہ جاتی ہے جس سے وہ دوسری حالت کی نسبت بہت محبت رکھتا ہے یعنی طبعا مال کی محبت اس کے دل میں ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنی زندگی اور آرام کا مدار مال کو ہی سمجھتا ہے اور نیز اس کے حاصل ہونے کا ذریعہ صرف اپنی محنت اور مشقت خیال کرتا ہے۔پس اس وجہ سے اس پر خدا تعالیٰ کی راہ میں مال کا چھوڑنا بہت بھاری اور تلخ ہوتا ہے۔پھر جب عنایت الہیہ اس ورطۂ عظیمہ سے اس کو نکالنا چاہتی ہے تو رازقیت الہیہ کا علم اس کو عطا کیا جاتا ہے اور تو کل کا بیج اس میں بویا جاتا ہے اور ساتھ اس کے ہیت الہیہ بھی کام کرتی ہے اور دونوں تجلیات جمالی اور جلالی اس کے دل کو اپنے قابو میں لے آتی ہیں تب مال کی محبت بھی دل میں سے بھاگ جاتی ہے اور مال دینے والے کی محبت کا تم دل میں بویا جاتا ہے اور ایمان قوی کیا جاتا ہے اور یہ قوت ایمانی درجہ سوم کی قوت سے بڑھ کر ہوتی ہے کیونکہ اس جگہ مومن صرف لغو باتوں کو ہی ترک نہیں کرتا بلکہ اس مال کو ترک کرتا ہے جس پر اپنی خوش زندگی کا سارا مدار سمجھتا ہے اور اگر اس کی ایمان کو قوت تو کل عطا نہ کی جاتی اور رازق حقیقی کی طرف آنکھ کا دروازہ نہ کھولا جاتا تو ہرگز ممکن نہ تھا کہ بخل کی بیماری دور ہو سکتی۔پس یہ قوت ایمانی نہ صرف لغو کاموں سے چھوڑاتی ہے بلکہ خدا تعالیٰ کے رازق ہونے پر ایک قوی ایمان پیدا کر دیتی ہے اور نور تو کل دل میں ڈال دیتی ہے۔تب مال جو ایک پارہ جگر سمجھا جاتا ہے بہت آسانی اور شرح صدر سے مومن اس کو خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتا ہے اور وہ ضعف جو بخل کی حالت میں نو امیدی سے پیدا ہوتا ہے اب خدا تعالیٰ پر بہت سی امیدیں ہو کر وہ تمام ضعف جاتا رہتا ہے اور مال دینے والے کی محبت مال کی محبت سے زیادہ ہو جاتی ہے۔پھر بعد اس کے چوتھی حالت ہے جس سے نفس امارہ بہت ہی پیار کرتا ہے اور جو تیسری حالت سے بدتر ہے کیونکہ تیسری حالت میں تو صرف مال کا اپنے ہاتھ سے چھوڑنا ہے مگر چوتھی حالت میں نفس امارہ کی شہوات محرمہ کو چھوڑنا ہے اور ظاہر ہے کہ مال کا چھوڑنا بہ نسبت شہوات کے چھوڑنے کے انسان پر طبعا سہل ہوتا ہے اس لئے یہ حالت بہ نسبت حالات گذشتہ کے بہت شدید اور خطرناک ہے اور فطرتا انسان کو