حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 129

All ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جو لوگ خدا کی مرضی کو چھوڑ کر اپنے عزیزوں اور اپنے مالوں سے پیار کرتے ہیں وہ خدا کی نظر میں بدکار ہیں وہ ضرور ہلاک ہوں گے کیونکہ انہوں نے غیر کو خدا پر مقدم رکھا۔یہی وہ تیسرا مرتبہ ہے جس میں وہ شخص با خدا بنتا ہے جو اس کے لئے ہزاروں بلائیں خریدے اور خدا کی طرف ایسے صدق اور اخلاص سے جھک جائے کہ خدا کے سوا کوئی اس کا نہ رہے گویا سب مر گئے۔پس سچ تو یہ ہے کہ جب تک ہم خود نہ مریں زندہ خدا نظر نہیں آ سکتا خدا کے ظہور کا دن وہی ہوتا ہے کہ جب ہماری جسمانی زندگی پر موت آوے۔ہم اندھے ہیں جب تک غیر کے دیکھنے سے اندھے نہ ہو جائیں۔ہم مردہ ہیں جب تک خدا کے ہاتھ میں مردہ کی طرح نہ ہو جائیں۔جب ہمارا منہ ٹھیک ٹھیک اس کے محاذات میں پڑے گا تب وہ واقعی استقامت جو تمام نفسانی جذبات پر غالب آتی ہے ہمیں حاصل ہوگی۔اس سے پہلے نہیں اور یہی وہ استقامت ہے جس سے نفسانی زندگی پر موت آجاتی ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۷۷ تا ۳۸۳) آسمانی نشانوں سے حصہ لینے والے تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔اول وہ جو کوئی ہنر اپنے اندر نہیں رکھتے اور کوئی تعلق خدا تعالیٰ سے ان کا نہیں ہوتا۔صرف دماغی مناسبت کی وجہ سے ان کو بعض سچی خوا ہیں آ جاتی ہیں اور بچے کشف ظاہر ہو جاتے ہیں جن میں کوئی مقبولیت اور محبوبیت کے آثار ظاہر نہیں ہوتے اور ان سے کوئی فائدہ ان کی ذات کو نہیں ہوتا۔اور ہزاروں شریر اور بدچلن اور فاسق و فاجر ایسی بدبودار خوابوں اور الہاموں میں ان کے شریک ہوتے ہیں۔اور اکثر دیکھا جاتا ہے کہ باوجود ان خوابوں اور کشفوں کے ان کا چال چلن قابل تعریف نہیں ہوتا۔کم سے کم یہ کہ ان کی ایمانی حالت نہایت کمزور ہوتی ہے اس قدر کہ ایک سچی گواہی بھی نہیں دے سکتے۔اور جس قدر دنیا سے ڈرتے ہیں خدا سے نہیں ڈرتے اور شریر آدمیوں سے قطع تعلق نہیں کر سکتے۔اور کوئی ایسی سچی گواہی نہیں دے سکتے جس سے بڑے آدمی کے ناراض ہو جانے کا اندیشہ ہو اور دینی امور میں نہایت درجہ کسل اور ستی ان میں پائی جاتی ہے۔اور دنیا کے ہموم و عموم میں دن رات غرق رہتے ہیں اور دانستہ جھوٹ کی حمایت کرتے اور سچ کو چھوڑتے ہیں۔اور ہر ایک قدم میں خیانت پائی جاتی ہے اور بعض میں اس سے بڑھ کر یہ عادت بھی پائی گئی ہے کہ وہ فسق و فجور سے بھی پر ہیز نہیں کرتے اور دنیا کمانے کے لئے ہر ایک ناجائز کام کر لیتے ہیں۔اور بعض کی اخلاقی حالت بھی نہایت خراب ہوتی ہے اور حسد اور بخل اور عجب اور تکبر اور غرور کے پتلے ہوتے ہیں اور ہر ایک کمینگی کے کام ان سے صادر ہوتے ہیں اور طرح طرح کی قابل شرم خباثتیں ان میں پائی جاتی