حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 125
۸۰۷ نبیوں اور رسولوں کو ملے تھے۔اور انبیاء اور رسل کا وارث اور نائب ہو جاتا ہے۔(آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۳۳ تا ۲۳۷) تیسرا حصہ یعنی یہ کہ روحانی حالتیں کیا ہیں؟ واضح رہے کہ ہم پہلے اس سے بیان کر چکے ہیں کہ بموجب ہدایت قرآن شریف کے روحانی حالتوں کا منبع اور سر چشمہ نفس مطمئنہ ہے جو انسان کو با اخلاق ہونے کے مرتبہ سے باخدا ہونے کے مرتبہ تک پہنچاتا ہے۔جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِى۔وَادْخُلِي جَنَّتی ہے یعنی اے نفس خدا کے ساتھ آرام یافتہ اپنے رب کی طرف واپس چلا آ۔وہ تجھ سے راضی اور تو اس سے راضی۔پس میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میرے بہشت کے اندر آ جا۔اس جگہ بہتر ہے کہ ہم روحانی حالتوں کے بیان کرنے کے لئے اس آیت کریمہ کی تفسیر کسی قدر توضیح سے بیان کریں۔پس یا درکھنا چاہئے کہ اعلیٰ درجہ کی روحانی حالت انسان کی اس دنیوی زندگی میں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ آرام پا جائے اور تمام اطمینان اور سرور اور لذت اس کی خدا میں ہی ہو جائے۔یہی وہ حالت ہے جس کو دوسرے لفظوں میں بہشتی زندگی کہا جاتا ہے اس حالت میں انسان اپنے کامل صدق اور صفا اور وفا کے بدلہ میں ایک نقد بہشت پالیتا ہے اور دوسرے لوگوں کی بہشت موعود پر نظر ہوتی ہے۔اور یہ بہشت موجود میں داخل ہوتا ہے۔اسی درجہ پر پہنچ کر انسان سمجھتا ہے کہ وہ عبادت جس کا بوجھ اس کے سر پر ڈالا گیا ہے درحقیقت وہی ایک ایسی غذا ہے جس سے اس کی روح نشو و نما پاتی ہے اور جس پر اس کی روحانی زندگی کا بڑا بھاری مدار ہے اور اس کے نتیجہ کا حصول کسی دوسرے جہان پر موقوف نہیں ہے۔اسی مقام پر یہ بات حاصل ہوتی ہے کہ وہ ساری علامتیں جو نفس لوامہ انسان کا اس کی ناپاک زندگی پر کرتا ہے اور پھر بھی نیک خواہشوں کو اچھی طرح ابھار نہیں سکتا اور بُری خواہشوں سے حقیقی نفرت نہیں دلا سکتا اور نہ نیکی پر ٹھہرنے کی پوری قوت بخش سکتا ہے اس پاک تحریک سے بدل جاتی ہے جو نفس مطمئنہ کے نشو ونما کا آغاز ہوتی ہے اور اس درجہ پر پہنچ کر وقت آ جاتا ہے کہ انسان پوری فلاح حاصل کرے۔اور اب تمام نفسانی جذبات خود بخود افسردہ ہونے لگتے ہیں اور روح پر ایک ایسی طاقت افزا ہوا چلنے لگتی ہے جس سے انسان پہلی کمزوریوں کو ندامت کی نظر سے دیکھتا ہے اس وقت انسانی سرشت پر ایک بھاری انقلاب آتا ہے اور عادت میں ایک تبدل عظیم پیدا ہوتا ہے اور انسان اپنی پہلی حالتوں سے بہت ہی دور الفجر: ۲۸ تا ۳۱