حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 124
۸۰۶ جذبات دور ہو کر نئے خواص اور نئے جذبات پیدا ہوں اور اپنی فطرت میں ایک انقلاب عظیم نظر آوے۔اور تمام حالتیں کیا اخلاقی اور کیا ایمانی اور کیا تعبدی ایسی ہی بدلی ہوئی نظر آدیں کہ گویا ان پر اب رنگ ہی اور ہے۔غرض جب اپنے نفس پر نظر ڈالے تو اپنے تئیں ایک نیا آدمی پاوے اور ایسا ہی خدا تعالیٰ بھی نیا ہی دکھائی دے اور شکر اور صبر اور یاد الہی میں نئی لذتیں پیدا ہو جائیں جن کی پہلے کچھ بھی خبر نہیں تھی اور بدیہی طور پر محسوس ہو کہ اب اپنا نفس اپنے رب پر بلکلی متوکل اور غیر سے بکلی لا پروا ہے اور تصور وجود حضرت باری اس قدر اس کے دل پر استیلاء پکڑ گیا ہے کہ اب اس کی نظر شہود میں وجود غیر بکلی معدوم ہے اور تمام اسباب بیچ اور ذلیل اور بے قد ر نظر آتے ہیں اور صدق اور وفا کا مادہ اس قدر جوش میں آ گیا ہے کہ ہر یک مصیبت کا تصور کرنے سے وہ مصیبت آسان معلوم ہوتی ہے اور نہ صرف تصور بلکہ مصائب کے وارد ہونے سے بھی ہر یک درد برنگ لذت نظر آتا ہے تو جب یہ تمام علامات پیدا ہو جا ئیں تو سمجھنا چاہئے کہ اب پہلی ہستی پر بکلی موت آ گئی۔اس موت کے پیدا ہو جانے سے عجیب طور کی قوتیں خدا تعالیٰ کی راہ میں پیدا ہو جاتی ہیں وہ باتیں جو دوسرے کہتے ہیں پر کرتے نہیں۔اور وہ راہیں جو دوسرے دیکھتے ہیں پر چلتے نہیں اور وہ بوجھ جو دوسرے جانچتے ہیں پر اٹھاتے نہیں ان سب امور شاقہ کی اس کو توفیق دی جاتی ہے کیونکہ وہ اپنی قوت سے نہیں بلکہ ایک زبر دست الہی طاقت اس کی اعانت اور امداد میں ہوتی ہے جو پہاڑوں سے زیادہ اس کو استحکام کی رو سے کر دیتی ہے۔اور ایک وفادار دل اس کو بخشتی ہے تب خدا تعالیٰ کے جلال کے لئے وہ کام اس سے صادر ہوتے ہیں اور وہ صدق کی باتیں ظہور میں آتی ہیں کہ انسان کیا چیز ہے اور آدم زاد کیا حقیقت ہے کہ خود بخود ان کو انجام دے سکے وہ بکلی غیر سے منقطع ہو جاتا ہے اور ماسوا اللہ سے دونوں ہاتھ اٹھا لیتا ہے اور سب تفاوتوں اور فرقوں کو درمیان سے دور کر دیتا ہے اور وہ آزمایا جاتا ہے اور دکھ دیا جاتا ہے اور طرح طرح کے امتحانات اس کو پیش آتے ہیں اور ایسی مصائب اور تکالیف اس پر پڑتی ہیں کہ اگر وہ پہاڑوں پر پڑتیں تو انہیں نابود کر دیتیں۔اور اگر وہ آفتاب اور ماہتاب پر وارد ہوتیں تو وہ بھی تاریک ہو جاتے۔لیکن وہ ثابت قدم رہتا ہے۔اور وہ تمام سختیوں کو بڑی انشرح صدر سے برداشت کر لیتا ہے اور اگر وہ ہاونِ حوادث میں پیسا بھی جائے اور غبار سا کیا جائے تب بھی بغیر انّی مَعَ اللہ کے اور کوئی آواز اس کے اندر سے نہیں آتی۔جب کسی کی حالت اس نوبت تک پہنچ جائے تو اس کا معاملہ اس عالم سے وراء الوراء ہو جاتا ہے۔اور ان تمام ہدایتوں اور مقامات عالیہ کو ظلمی طور پر پا لیتا ہے جو اس سے پہلے