حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 123
۸۰۵ ساتھ ہمیشہ کے لئے اس کے سامنے موجود ہو گیا ہے۔مگر ساتھ اس کے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ دونوں آخری درجہ بقا اور لقا کے کسی نہیں ہیں بلکہ وہی ہیں اور کسب اور جد و جہد کی حد صرف فنا کے درجہ تک ہے اور اسی حد تک تمام راستباز سالکوں کا سیر و سلوک ختم ہوتا ہے اور دائرہ کمالات انسانیہ کا اپنے استدارت تامہ کو پہنچتا ہے۔اور جب اس درجہ فنا کو پاک باطن لوگ جیسا کہ چاہئے طے کر چکتے ہیں تو عادت الہیہ اسی طرح پر جاری ہے کہ بیک دفعہ عنایت الہی کی نیم چل کر بقا اور لقا کے درجہ تک انہیں پہنچادیتی ہے۔اب اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ اس سفر کی تمام صعوبتیں اور مشقتیں فنا کی حد تک ہی ہیں اور پھر اس سے آگے گزر کر انسان کی سعی اور کوشش اور مشقت اور محنت کو دخل نہیں بلکہ وہ محبت صافیہ جو فنا کی حالت میں خدا وند کریم وجلیل سے پیدا ہوتی ہے الہی محبت کا خود بخود اس پر ایک نمایاں شعلہ پڑتا ہے جس کو مرتبہ بقا اور لقا سے تعبیر کرتے ہیں۔اور جب محبت الہی بندہ کی محبت پر نازل ہوتی ہے تب دونوں محبتوں کے ملنے سے روح القدس کا ایک روشن اور کامل سایہ انسان کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے اور لقا کے مرتبہ پر اس روح القدس کی روشنی نہایت ہی نمایاں ہوتی ہے اور اقتداری خوارق جن کا ابھی ہم ذکر کر آئے ہیں اسی وجہ سے ایسے لوگوں سے صادر ہوتے ہیں کہ یہ روح القدس کی روشنی ہر وقت اور ہر حال میں ان کے شامل حال ہوتی ہے۔اور ان کے اندر سکونت رکھتی ہے اور وہ اس روشنی سے کبھی اور کسی حال میں جدا نہیں ہوتے اور نہ وہ روشنی ان سے جدا ہوتی ہے۔وہ روشنی ہر دم ان کے تنفس کے ساتھ نکلتی ہے اور ان کی نظر کے ساتھ ہر ایک چیز پر پڑتی ہے اور ان کے کلام کے ساتھ اپنی نورانیت لوگوں کو دکھلاتی ہے۔اسی روشنی کا نام روح القدس ہے مگر یہ حقیقی روح القدس نہیں۔حقیقی روح القدس وہ ہے جو آسمان پر ہے۔یہ روح القدس اس کا ظل ہے جو پاک سینوں اور دلوں اور دماغوں میں ہمیشہ کے لئے آباد ہو جاتا ہے اور ایک طرفۃ العین کے لئے بھی ان سے جدا نہیں ہوتا۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۳ تا ۷۲ ) اس جگہ ہر ایک بچے طالب کے دل میں بالطبع یہ سوال پیدا ہو گا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے کہ تا یہ مرتبہ عالیہ مکالمہ الہیہ حاصل کر سکوں۔پس اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک نئی ہستی ہے جس میں نئی قوتیں نئی طاقتیں نئی زندگی عطا کی جاتی ہے اور نئی ہستی پہلی ہستی کی فنا کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی اور جب پہلی ہستی ایک کچی اور حقیقی قربانی کے ذریعہ سے جو فدائے نفس اور فدائے عزت و مال اور ودیگر لوازم نفسانیہ سے مراد ہے بکلی جاتی رہے تو یہ دوسری ہستی فی الفور اس کی جگہ لے لیتی ہے۔اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ پہلی ہستی کے دور ہونے کے نشان کیا ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب پہلے خواص اور