حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 122
۸۰۴ ہے مگر جب تک یہ حالت راسخ نہ ہو اور خدا تعالیٰ کی طرف بکلی جھک جانا ایک طبعی امر نہ ٹھہر جائے تب تک مرتبہ بقا کا پیدا نہیں ہو سکتا بلکہ وہ مرتبہ صرف اسی وقت پیدا ہوگا کہ جب ہر یک اطاعت کا تصنع درمیان سے اٹھ جائے اور ایک طبعی روئیدگی کی طرح فرمانبرداری کی سرسبز اور لہراتی ہوئی شاخیں دل سے جوش مار کر نکلیں اور واقعی طور پر سب کچھ جو اپنا سمجھا جاتا ہے خدا تعالیٰ کا ہو جائے اور جیسے دوسرے لوگ ہوا پرستی میں لذت اٹھاتے ہیں اس شخص کی تمام کامل لذتیں پرستش اور یاد الہی میں ہوں اور بجائے نفسانی ارادوں کے خدا تعالیٰ کی مرضیات جگہ پکڑ لیں۔پھر جب یہ بقا کی حالت بخوبی استحکام پکڑ جائے اور سالک کے رگ وریشہ میں داخل ہو جائے اور اس کا جز و وجود بن جائے اور ایک نور آسمان سے اتر تا ہوا دکھائی دے جس کے نازل ہونے کے ساتھ ہی تمام پر دے دور ہو جائیں اور نہایت لطیف اور شیریں اور حلاوت سے ملی ہوئی ایک محبت دل میں پیدا ہو جو پہلے نہیں تھی اور ایک ایسی خنکی اور اطمینان اور سکینت اور سرور دل کو محسوس ہو کہ جیسے ایک نہایت پیارے دوست مدت کے بچھڑے ہوئے کی یک دفعہ ملنے اور بغلگیر ہونے سے محسوس ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کے روشن اور لذیذ اور مبارک اور سرور بخش اور فصیح اور معطر اور مبشرانہ کلمات اٹھتے اور بیٹھے اور سوتے اور جاگتے اس طرح پر نازل ہونے شروع ہو جائیں کہ جیسے ایک ٹھنڈی اور دلکش اور پر خوشبو ہوا ایک گلزار پر گذر کر آتی اور صبح کے وقت چلنی شروع ہوتی اور اپنے ساتھ ایک سکر اور سرور لاتی ہے اور انسان خدا تعالیٰ کی طرف ایسا کھینچا جائے کہ بغیر اس کی محبت اور عاشقانہ تصور کے جی نہ سکے اور نہ یہ کہ مال اور جان اور عزت اور اولاد اور جو کچھ اس کا ہے قربان کرنے کے لئے تیار ہو بلکہ اپنے دل میں قربان کر ہی چکا ہو اور ایسی ایک زبر دست کشش سے کھینچا گیا ہو جو نہیں جانتا کہ اسے کیا ہو گیا اور نورانیت کا بشدت اپنے اندر انتشار پاوے جیسا کہ دن چڑھا ہوا ہوتا ہے اور صدق اور محبت اور وفا کی نہریں بڑے زور سے چلتی ہوئی اپنے اندر مشاہدہ کرے اورلمحہ بہ لحہ ایسا احساس کرتا ہو کہ گویا خدا تعالیٰ اس کے قلب پر اترا ہوا ہے جب یہ حالت اپنی تمام علامتوں کے ساتھ محسوس ہو تب خوشی کرو اور محبوب حقیقی کا شکر بجا لاؤ کہ یہی وہ انتہائی مقام ہے جس کا نام لقا رکھا گیا ہے۔اس آخری مقام میں انسان ایسا احساس کرتا ہے کہ گویا بہت سے پاک پانیوں سے اس کو دھو کر اور نفسانیت کا بکتی رگ وریشہ اس سے الگ کر کے نئے سرے اس کو پیدا کیا گیا۔اور پھر رب العالمین کا تخت اس کے اندر بچھایا گیا اور خدائے پاک و قدوس کا چمکتا ہوا چہرہ اپنے تمام دلکش حسن و جمال کے اندر کا )