حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 120
۸۰۲ کدورت سے پاک اور ہر یک دغدعہ اور شک سے محفوظ اور ہر یک درد انتظار سے منزہ ہے لقا کے نام سے موسوم ہے۔اور اس مرتبہ لقا پر حسن کا لفظ جو آیت میں موجود ہے نہایت صراحت سے دلالت کر رہا ہے کیونکہ احسان حسب تشریح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت کاملہ کا نام ہے کہ جب انسان اپنی پرستش کی حالت میں خدا تعالیٰ سے ایسا تعلق پیدا کرے کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے۔اور یہ لقا کا مرتبہ تب سالک کے لئے کامل طور پر متحقق ہوتا ہے کہ جب ربانی رنگ بشریت کے رنگ و بو کو بتمام و کمال اپنے رنگ کے نیچے متواری اور پوشیدہ کر دیوے جس طرح آگ لوہے کے رنگ کو اپنے نیچے ایسا چھپالیتی ہے کہ نظر ظاہر میں بجز آگ کے اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔یہ وہی مقام ہے جس پر پہنچ کر بعض سالکین نے لغزشیں کھائی ہیں اور شہودی پیوند کو وجودی پیوند کے رنگ میں سمجھ لیا ہے۔اس مقام میں جو اولیاء اللہ پہنچے ہیں یا جن کو اس میں سے کوئی گھونٹ میسر آ گیا ہے بعض اہل تصوف نے ان کا نام اطفال اللہ رکھ دیا ہے اس مناسبت سے کہ وہ لوگ صفات الہی کے کنارِ عاطفت میں بکلی جا پڑے ہیں اور جیسے ایک شخص کا لڑکا اپنے خلیہ اور خط و خال میں کچھ اپنے باپ سے مناسبت رکھتا ہے ویسا ہی ان کو بھی ظلمی طور پر جه خلق با خلاق اللہ خدا تعالیٰ کی صفات جمیلہ سے کچھ مناسبت پیدا ہوگئی ہے۔ایسے نام اگر چہ کھلے کھلے طور پر بزبان شرع مستعمل نہیں ہیں مگر در حقیقت عارفوں نے قرآن کریم سے ہی اس کو استنباط کیا ہے کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكُرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا یعنی اللہ تعالیٰ کو ایسا یاد کرو کہ جیسے تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو۔اور ظاہر ہے کہ اگر مجازی طور پر ان الفاظ کا بولنا منہیات بوجہ ہے۔شرع سے ہوتا تو خدا تعالیٰ ایسی طرز سے اپنی کلام کو منزہ رکھتا جس سے اس اطلاق کا جواز مستنبط ہوسکتا۔اور اس درجہ لقا میں بعض اوقات انسان سے ایسے امور صادر ہوتے ہیں کہ جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور الہی طاقت کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں جیسے ہمارے سید و مولیٰ سید الرسل حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی اور وہ مٹھی کسی دعا کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت سے چلائی مگر اس مٹھی نے خدائی طاقت دکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اس کا اثر پڑا کہ کوئی ان میں سے ایسا نہ رہا کہ جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو ایسا ہی دوسرا معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو شق القمر ہے اسی الہی طاقت سے ظہور میں آیا تھا۔کوئی دعا اس کے ساتھ شامل نہ تھی۔کیونکہ وہ صرف انگلی کے اشارہ سے جو الہی طاقت البقرة: ٢٠١