حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 115

۷۹۷ اور جس سے اس سفلی زندگی پر ایک موت طاری ہو کر انسانی روح میں ایک سچی تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔وہ زندہ اور حقیقی نور کیا چیز ہے؟ وہی خدا داد طاقت ہے جس کا نام یقین اور معرفت تامہ ہے۔یہ وہی طاقت ہے جو اپنے زور آور ہاتھ سے ایک خوفناک اور تاریک گڑھے سے انسان کو باہر لاتی اور نہایت روشن اور پر امن فضا میں بٹھا دیتی ہے اور قبل اس کے جو یہ روشنی حاصل ہو تمام اعمال صالحہ رسم اور عادت کے رنگ میں ہوتے ہیں اور اس صورت میں ادنی ادنیٰ ابتلاؤں کے وقت انسان ٹھوکر کھا سکتا ہے بجز اس مرتبہ یقین کے خدا سے معاملہ صافی کس کا ہو سکتا ہے؟ جس کو یقین دیا گیا ہے وہ پانی کی طرح خدا کی طرف بہتا ہے اور ہوا کی طرح اس کی طرف جاتا ہے اور آگ کی طرح غیر کو جلا دیتا ہے اور مصائب میں زمین کی طرح ثابت قدمی دکھلاتا ہے۔خدا کی معرفت دیوانہ بنا دیتی ہے مگر لوگوں کی نظر میں دیوانہ اور خدا کی نظر میں عقلمند اور فرزانہ۔یہ شربت کیا ہی شیریں ہے کہ حلق سے اترتے ہی تمام بدن کو شیر میں کر دیتا ہے اور یہ دودھ کیا ہی لذیذ ہے کہ ایک دم میں تمام نعمتوں سے فارغ اور لا پرواہ کر دیتا ہے مگر ان دعاؤں سے حاصل ہوتا ہے جو جان کو ہتھیلی پر رکھ کر کی جاتی ہیں اور کسی دوسرے کے خون سے نہیں بلکہ اپنی کچی قربانی سے حاصل ہوتا ہے۔کیسا مشکل کام ہے آہ صد آہ۔ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۴۴ تا ۲۴۶) جولوگ سچے دل سے خدا کے طالب ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ خدا کی معرفت خدا کے ذریعہ سے ہی میسر آ سکتی ہے اور خدا کو خدا کے ساتھ ہی شناخت کر سکتے ہیں اور خداپنی حجت آپ ہی پوری کر سکتا ہے انسان کے اختیار میں نہیں اور انسان کبھی کسی حیلہ سے گناہ سے بیزار ہو کر اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ معرفت کا ملہ حاصل نہ ہو اور اس جگہ کوئی کفارہ مفید نہیں اور کوئی طریق ایسا نہیں جو گناہ سے پاک کر سکے بجز اس کامل معرفت کے جو کامل محبت اور کامل خوف کو پیدا کرتی ہے اور کامل محبت اور کامل خوف یہی دونوں چیزیں ہیں جو گناہ سے روکتی ہیں کیونکہ محبت اور خوف کی آگ جب بھڑکتی ہے تو گناہ کے خس و خاشاک کو جلا کر بھسم کر دیتی ہے اور یہ پاک آگ اور گناہ کی گندی آگ دونوں جمع ہو ہی نہیں سکتیں۔غرض انسان نہ بدی سے رک سکتا ہے اور نہ محبت میں ترقی کر سکتا ہے جب تک کہ کامل معرفت اس کو نصیب نہ ہو اور کامل معرفت نہیں ملتی جب تک کہ انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے زندہ برکات اور معجزات نہ دیئے جائیں۔(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۷ ) ایمان کے لئے خشوع کی حالت مثل بیج کے ہے اور پھر لغو باتوں کے چھوڑنے سے ایمان اپنا نرم نرم