حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 114
۷۹۶ مگر ایماندار۔دنیا میں ہر ایک سوزش اور حرفت اور جلن میں گرفتار ہے مگر مومن۔اے ایمان کیا ہی تیرے ثمرات شیریں ہیں۔کیا ہی تیرے پھول خوشبو دار ہیں۔سبحان اللہ کیا عجیب تجھ میں برکتیں ہیں۔کیا ہی خوش نور تجھ میں چمک رہے ہیں۔کوئی ثریا تک پہنچ نہیں سکتا مگر وہی جس میں تیری کششیں ہیں خدا تعالیٰ کو یہی پسند آیا کہ اب تو آوے اور فلسفہ جاوے۔وَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهِ۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۷۰ تا ۲۷۳ حاشیه ) ظاہر ہے کہ امر مقدم اور ایک بھاری مرحلہ جو ہمیں طے کرنا چاہئے وہ خدا شناسی ہے اور اگر ہماری خدا شناسی ہی ناقص اور مشتبہ اور دھندلی ہو تو ہمارا ایمان ہرگز منور اور چمکیلا نہیں ہوسکتا۔اور یہ خدا شناسی جب تک کہ رحیمیت کی صفت کے ذریعہ سے ہمارا چشم دید واقعہ نہ بن جائے تب تک ہم کسی طرح سے اپنے رب کریم کی حقیقی معرفت کے چشمہ سے آب زلال نہیں پی سکتے۔اگر ہم اپنے تئیں دھوکہ نہ دیں تو ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ ہم تکمیل معرفت کے لئے اس بات کے محتاج ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے ذریعہ سے تمام شکوک و شبہات ہمارے دور ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضل اور قدرت کی صفات تجربہ میں آکر ہمارے دل پر ایسا قومی اثر پڑے کہ ہمیں ان نفسانی جذبات سے چھوڑ ائے جو محض کمزوری ایمان اور یقین کی وجہ سے ہمارے پر غالب آتے اور دوسری طرف رخ کر دیتے ہیں کیا یہ سچ نہیں کہ انسان اس چند روزہ دنیا میں آکر بوجہ اس کے کہ خدا شناسی کی پُر زور کر نہیں اس کے دل پر نہیں پڑتیں ایک خوفناک تاریکی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اور جس قدر دنیا اور دنیا کی املاک اور دنیا کی ریاستیں اور حکومتیں اور دولتیں اس کو پیاری معلوم ہوتی ہیں اس قدر عالم معاد کی لذات اور خوشحالی حقیقی کی جستجو اس کو نہیں ہوتی۔اور اگر کوئی نسخہ دنیا میں ہمیشہ رہنے کا نکلے تو اپنے منہ سے اس بات کے کہنے کے لئے طیار ہے کہ میں بہشت اور عالم آخرت کی نعمتوں کی خواہش سے باز آیا۔پس اس کا کیا سبب ہے یہی تو ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی قدرت اور رحمت اور وعدوں پر حقیقی ایمان نہیں پس حق کے طالب کے لئے نہایت ضروری ہے کہ اس حقیقی ایمان کی تلاش میں لگا رہے اور اپنے تئیں یہ دھوکا نہ دے کہ میں مسلمان ہوں اور خدا اور رسول پر ایمان لاتا ہوں قرآن شریف پڑھتا ہوں۔شرک سے بیزار ہوں۔نماز کا پابند ہوں اور ناجائز اور بد باتوں سے اجتناب کرتا ہوں۔کیونکہ مرنے کے بعد کامل نجات اور سچی خوشحالی اور حقیقی سرور کا وہ شخص مالک ہو گا جس نے وہ زندہ اور حقیقی نور اس دنیا میں حاصل کر لیا ہے جو انسان کے منہ کو اس کے تمام قوتوں اور طاقتوں اور ارادوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف پھیر دیتا ہے