حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 113
۷۹۵ کے کھولے جائیں گے اور اسی کے ایمان کو عرفان کے درجہ تک پہنچایا جائے گا۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۵۱ تا ۲۵۳ حاشیه ) میں بار بار کہتا ہوں اور زور سے کہتا ہوں کہ اگر عقائد دینیہ فلسفہ کے رنگ پر اور ہندسہ اور حساب کی طرح عام طور پر بدیہی الثبوت ہوتے تو وہ ہر گز نجات کا ذریعہ نہ ٹھہر سکتے۔بھائیو یقیناً سمجھو کہ نجات ایمان سے وابستہ ہے اور ایمان امور مخفیہ سے وابستہ ہے۔اگر حقائق اشیاء مستور نہ ہوتی تو ایمان نہ ہوتا۔اور اگر ایمان نہ ہوتا تو نجات کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا۔ایمان ہی ہے جو رضائے الہی کا وسیلہ اور مراتب قرب کا زینہ اور گناہوں کا زنگ دھونے کے لئے ایک چشمہ ہے اور ہمیں جو خدا تعالیٰ کی طرف حاجت ہے اس کا ثبوت ایمان ہی کے ذریعہ سے ملتا ہے کیونکہ ہم اپنی نجات کے لئے اور ہر ایک دکھ سے راحت پانے کے لئے خدا تعالیٰ کے محتاج ہیں۔اور وہ نجات صرف ایمان سے ہی ملتی ہے۔کیا دنیا کا عذاب اور کیا آخرت کا دونوں کا علاج ایمان ہے۔جب ہم ایمان کی قوت سے ایک مشکل کا حل ہو جانا غیر ممکن نہیں دیکھتے تو وہ مشکل ہمارے لئے حل کی جاتی ہے۔ہم ایمان ہی کی قوت سے خلاف قیاس اور بعید از عقل مقاصد کو بھی پالیتے ہیں۔ایمان ہی کی قوت سے کرامات ظاہر ہوتی ہیں اور خوارق ظہور میں آتے ہیں۔اور انہونی باتیں ہو جاتی ہیں۔پس ایمان ہی سے پتہ لگتا ہے کہ خدا ہے۔خدا فلسفیوں سے پوشیدہ رہا اور حکیموں کو اس کا کچھ پتہ نہ لگا۔مگر ایمان ایک عاجز دلق پوش کو خدا تعالیٰ سے ملا دیتا ہے اور اس سے باتیں کرا دیتا ہے۔مومن اور محبوب حقیقی میں قوت ایمانی دلالہ ہے۔یہ قوت ایک مسکین۔ذلیل۔خوار۔مردود خلائق کو قصر مقدس تک جو عرش اللہ ہے پہنچا دیتی ہے۔اور تمام پردوں کو اٹھاتی اٹھاتی دلارام از لی کا چہرہ دکھا دیتی ہے۔سو اٹھو ایمان کو ڈھونڈو اور فلسفہ کے خشک اور بے سود ورقوں کو جلاؤ کہ ایمان سے تم کو برکتیں ملیں گی۔ایمان کا ایک ذرہ فلسفہ کے ہزار دفتر سے بہتر ہے اور ایمان سے صرف آخری نجات نہیں بلکہ ایمان دنیا کے عذابوں اور لعنتوں سے بھی چھڑا دیتا ہے اور روح کے تحلیل کرنے والے غموں سے ہم ایمان ہی کی برکت سے نجات پاتے ہیں۔وہ چیز ایمان ہی ہے جس سے مومن کامل سخت گھبراہٹ اور قلق اور کرب اور غموں کے طوفان کے وقت اور اس وقت کہ جب نا کامی کے چاروں طرف سے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں اور اسباب عادیہ کے تمام دروازے مقفل اور مسدود نظر آتے ہیں مطمئن اور خوش ہوتا ہے۔ایمان کامل سے سارے استبعاد جاتے رہتے ہیں اور ایمان کو کوئی چیز ایسا نقصان نہیں پہنچاتی جیسا کہ استبعاد اور کوئی ایسی دولت نہیں جیسا کہ ایمان۔دنیا میں ہر یک ماتم زدہ ہے