حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 111
۷۹۳ درمیان سے اٹھا دیں یہاں تک کہ بوجہ کمال رابطه عشق و محبت و بباعث انتہائی جوش صدق وصفا کے بلا اور مصیبت بھی محسوس اللذت و مدرک الحلاوت ہو تو اس کا درجہ کا نام اطمینان ہے جس کو دوسرے لفظوں میں حق الیقین اور فلاح اور نجات سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔مگر یہ سب مراتب ایمانی مرتبہ کے بعد ملتے ہیں اور اس پر مترتب ہوتے ہیں جو شخص اپنے ایمان میں قوی ہوتا ہے وہ رفتہ رفتہ ان سب مراتب ا کو پالیتا ہے۔لیکن جو شخص ایمانی طریق کو اختیار نہیں کرتا اور ہر یک صداقت کے قبول کرنے سے اول قطعی اور یقینی اور نہایت واشگاف ثبوت مانگتا ہے اس کی طبیعت کو اس راہ سے کچھ مناسبت نہیں اور وہ اس لائق ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اس قادر غنی بے نیاز کے فیوض حاصل کرے۔عادت اللہ قدیم سے اسی طرح پر جاری ہے اور یہ اس فن علم الہی کا نہایت باریک نکتہ ہے جس پر سعادت مندوں کو غور کرنی چاہئے کہ ہمیشہ ثواب اور فیضان سماوی ایمان پر ہی مترتب ہوتا ہے۔اس راہ کا سچا فلسفہ یہی ہے کہ انسان دین قبول کرنے کی ابتدائی حالت میں اس بے نیاز مطلق اور اس کی قدرت اور اس کے وعد و وعید اور اس کے اخبار و اسرار کے ماننے میں لمبے لمبے انکاروں سے مجتنب رہے۔کیونکہ ایمانی صورت کے قائم رکھنے کے لئے (جس پر تمام ثواب وابستہ ہے ) ضرور تھا کہ خدائے تعالیٰ امور ایمانیہ کو ایسا منکشف نہ کرتا کہ وہ دوسرے بدیہات کی طرح ہر یک عام اور خاص کی نظر میں مسلّم الوجود ہو جاتی۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۷۰ تا ۸۰) ایمان اس بات کو کہتے ہیں کہ اس حالت میں مان لینا کہ جبکہ ابھی علم کمال تک نہیں پہنچا اور شکوک و شبہات سے ہنوز لڑائی ہے۔پس جو شخص ایمان لاتا ہے یعنی با وجود کمزوری اور نہ مہیا ہونے کل اسباب یقین کے اس بات کو اغلب احتمال کی وجہ سے قبول کر لیتا ہے وہ حضرت احدیت میں صادق اور راستباز شمار کیا جاتا ہے اور پھر اس کو موہبت کے طور پر معرفت تامہ حاصل ہوتی ہے اور ایمان کے بعد عرفان کا جام اس کو پلایا جاتا ہے۔اسی لئے ایک مرد تقی رسولوں اور نبیوں اور مامورین من اللہ کی دعوت کوسن کر ہر ایک پہلو پر ابتداء امر میں ہی حملہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ حصہ جو کسی مامور من اللہ کے منجانب اللہ ہونے پر بعض صاف اور کھلے کھلے دلائل سے سمجھ آ جاتا ہے اسی کو اپنے اقرار اور ایمان کا ذریعہ ٹھہرا لیتا ہے اور وہ حصہ جو سمجھ نہیں آتا اس میں سنت صالحین کے طور پر استعارات اور مجازات قرار دیتا ہے اور اس طرح تناقض کو درمیان سے اٹھا کر صفائی اور اخلاص کے ساتھ ایمان لے آتا ہے۔تب خدا تعالیٰ اس کی حالت پر رحم