حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 110
۷۹۲ سخت نالائق اور بد فہم اور نبی الطبع اور بزدل اور اپنی سوسائٹی کے بدنام کنندہ خیال کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے فلاسفر ہونے کا دعویٰ تو کیا لیکن اصول فلسفہ پر جیسا کہ حق چلنے کا تھا نہیں چلے۔اس لئے اول درجہ کے فلاسفر اس بات سے عار رکھتے ہیں کہ ان ناقصوں کو فلاسفر کے باعزت لفظ سے مخاطب یا موسوم کیا جائے۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۸۳ تا ۸۸ حاشیہ ) میں ان خشک فلسفیوں کو جو عشق الہی اور اس کی بزرگ ذات کی قدر شناسی سے غافل ہیں جہاں تک مجھے طاقت عقلی دی گئی ہے بدلائل شافیہ راہ راست کی طرف پھیرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ان کی روحانی زندگی بہت ہی کمزور ہو گئی ہے اور ان کی بے جا آزادی اور ضعف ایمان نے بہت ہی برا اثر ان کے ارادت باطنی اور ان کی دینی اولوالعزمی اور ان کی اندرونی حالت پر ڈالا ہے اور عجیب طور پر انہوں نے ضلالت کو صداقت کے ساتھ ملا دیا ہے۔مذہب وہ چیز ہے جس کی برکات کی اصل جڑھ ایمان و اعتبار و حسن اعتقاد و حسن ظن و اطاعت و اتباع مخبر صادق و کلام الہی ہے لیکن وہ لوگ اپنے غلط فلسفہ کی وجہ سے مذہب کی حقیقت کچھ اور ہی سمجھ رہے ہیں۔سو انہیں لازم ہے کہ تعصب اور خود پسندی کے شور و غوغا سے اپنے تئیں الگ کر کے سیدھی نظر اور سیدھے خیال سے اس سوال پر غور کریں کہ ایمان کیا شئے ہے اور اس پر ثواب مترتب ہونے کی کیوں امید کی جاتی ہے؟ سو جاننا چاہئے کہ ایمان اس اقرار لسانی و تصدیق قلبی سے مراد ہے جو تبلیغ و پیغام کسی نبی کی نسبت محض تقویٰ اور دوراندیشی کے لحاظ سے صرف نیک فنی کی بنیاد پر یعنی بعض وجوہ کو معتبر سمجھ کر اور اس طرف غلبہ اور رجحان پا کر بغیر انتظار کامل اور قطعی اور واشگاف ثبوت کے دلی انشراح سے قبولیت و تسلیم ظاہر کی جائے۔لیکن جب ایک خبر کی صحت پر وجوہ کاملہ قیاسیہ اور دلائل کا فیہ عقلیہ مل جائیں تو اس بات کا نام ایقان ہے جس کو دوسرے لفظوں میں علم الیقین بھی کہتے ہیں۔اور جب خدائے تعالیٰ خود اپنے خاص جذبہ اور موہبت سے خارق عادت کے طور پر انوار ہدایت کھولے اور اپنے آلاء ونعماء سے آشنا کرے۔اور لدنی طور پر عقل اور علم عطا فرمادے اور ساتھ اس کے ابواب کشف اور الہام بھی منکشف کر کے عجائبات الوہیت کا سیر کرا دے اور اپنے محبوبانہ حسن و جمال پر اطلاع بخشے تو اس مرتبہ کا نام عرفان ہے جس کو دوسرے لفظوں میں عین الیقین اور ہدایت اور بصیرت کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔اور جب ان تمام مراتب کی شدت اثر سے عارف کے دل میں ایک ایسی کیفیت حالی عشق اور محبت کے باز نہ تعالیٰ پیدا ہو جائے کہ تمام وجود عارف کا اس کی لذت سے بھر جائے اور آسمانی انوار اس کے دل پر بکلی احاطہ کر کے ہر یک ظلمت و قبض و تنگی کو