حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 6
۶۸۸ علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے کیونکہ خدا انسان کو پیدا کر کے اس سے الگ نہیں ہوا بلکہ وہ جیسا کہ انسان کا خالق ہے اور اُس کے تمام قومی اندرونی اور بیرونی کا پیدا کرنے والا ہے ویسا ہی وہ انسان کا قیوم بھی ہے یعنی جو کچھ بنایا ہے اُس کو خاص اپنے سہارے سے محفوظ رکھنے والا ہے۔پس جبکہ خدا کا نام قیوم بھی ہے یعنی اپنے سہارے سے مخلوق کو قائم رکھنے والا اس لئے انسان کے لئے لازم ہے کہ جیسا کہ وہ خدا کی خالقیت سے پیدا ہوا ہے ایسا ہی وہ اپنی پیدائش کے نقش کو خدا کی قومیت کے ذریعہ سے بگڑنے سے بچاوے۔۔۔۔۔۔پس انسان کے لئے یہ ایک طبعی ضرورت تھی جس کے لئے استغفار کی ہدایت ہے۔اسی کی طرف قرآن شریف میں یہ اشارہ فرمایا گیا ہے۔اللہ لَا إِلهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوم۔۔۔سوده خدا خالق بھی ہے اور قیوم بھی۔اور جب انسان پیدا ہو گیا تو خالقیت کا کام تو پورا ہو گیا مگر قومیت کا کام ہمیشہ کے لئے ہے۔اسی لئے دائمی استغفار کی ضرورت پیش آئی۔غرض خدا کی ہر ایک صفت کے لئے ایک فیض ہے اور استغفار صفت قومیت کا فیض حاصل کرنے کے لئے ہے۔اسی کی طرف اشارہ سورہ فاتحہ کی اس آیت میں ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی اس بات کی مدد چاہتے ہیں کہ تیری قومیت اور ربوبیت ہمیں مدد دے اور ہمیں ٹھوکر سے بچاوے تا ایسا نہ ہو کہ کمزوری ظہور میں آوے اور ہم عبادت نہ کرسکیں۔اس تمام تفصیل سے ظاہر ہے کہ استغفار کی درخواست کے اصل معنے یہی ہیں کہ وہ اس لئے نہیں ہوتی کہ کوئی حق فوت ہو گیا ہے بلکہ اس خواہش سے ہوتی ہے کہ کوئی حق فوت نہ ہو۔اور انسانی فطرت اپنے تیں کمزور دیکھ کر طبعا خدا سے طاقت طلب کرتی ہے جیسا کہ بچہ ماں سے دودھ طلب کرتا ہے۔پس جیسا کہ خدا نے ابتدا سے انسان کو زبان، آنکھ، دل، کان وغیرہ عطا کئے ہیں ایسا ہی استغفار کی خواہش بھی ابتدا سے ہی عطا کی ہے اور اس کو محسوس کرایا ہے کہ وہ اپنے وجود کے ساتھ خدا سے مدد پانے کا محتاج ہے۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ فرمایا۔وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ یعنی خدا سے درخواست کر کہ تیری فطرت کو بشریت کی کمزوری سے محفوظ رکھے اور اپنی طرف سے فطرت کو ایسی قوت دے کہ وہ کمزوری ظاہر نہ ہونے پاوے اور ایسا ہی ان مردوں اور ان عورتوں کے لئے جو تیرے پر ایمان لاتے ہیں بطور شفاعت کے دعا کرتارہ کہ تا جو فطرتی کمزوری سے اُن سے خطائیں ہوتی ہیں اُن کی سزا سے وہ محفوظ رہیں اور آئندہ زندگی اُن کی گناہوں سے بھی محفوظ ہو جائے۔یہ آیت ال عمران: ۳ محمد : ۲۰