حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 87

۸۷۔ہے اس سے بکلی بیخبری ہے۔اس زمانہ کا فلسفہ اور طبیعی بھی روحانی صلاحیت کا سخت مخالف پڑا ہے اُس کے جذبات اُس کے جاننے والوں پر نہایت بد اثر کرنے والے اور ظلمت کی طرف کھینچنے والے ثابت ہوتے ہیں۔وہ زہریلے مواد کو حرکت دیتے اور سوئے ہوئے شیطان کو جگا دیتے ہیں۔ان علوم میں دخل رکھنے والے دینی امور میں اکثر ایسی بد عقیدگی پیدا کر لیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ اصولوں اور صوم وصلوۃ وغیرہ کے عبادت کے طریقوں کو تحقیر اور استہزاء کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔اُن کے دلوں میں خدا تعالیٰ کے وجود کی بھی کچھ وقعت اور عظمت نہیں بلکہ اکثر اُن میں سے الحاد کے رنگ سے رنگین اور دہریت کے رگ وریشہ سے پُر اور مسلمانوں کی اولاد کہلا کر پھر دشمن دین ہیں۔جو لوگ کالجوں میں پڑھتے ہیں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ ہنوز وہ اپنے علوم ضرور یہ کی تحصیل سے فارغ نہیں ہوتے کہ دین اور دین کی ہمدردی سے پہلے ہی فارغ اور مستعفی ہو چکتے ہیں۔یہ میں نے صرف ایک شاخ کا ذکر کیا ہے۔جو حال کے زمانہ میں ضلالت کے پھلوں سے لدی ہوئی ہے۔مگر اس کے سوا صد ہا اور شاخیں بھی ہیں جو اس سے کم نہیں ! عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ دنیا سے امانت اور دیانت ایسی اُٹھ گئی ہے کہ گویا بکلی مفقود ہوگئی ہے۔دنیا کمانے کے لئے مکر اور فریب حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔جو شخص سب سے زیادہ شریر ہو وہی سب سے زیادہ لائق سمجھا جاتا ہے۔طرح طرح کی ناراستی، بد دیانتی ، حرامکاری، دغا بازی، دروغ گوئی اور نہایت درجہ کی رو بہ بازی اور لالچ سے بھرے ہوئے منصوبے اور بدذاتی سے بھری ہوئی خصلتیں پھیلتی جاتی ہیں اور نہایت بے رحمی سے ملے ہوئے کینے اور جھگڑے ترقی پر ہیں اور جذبات بہیمیہ اور سبعیہ کا ایک طوفان اٹھا ہوا ہے۔اور جس قدر لوگ ان علوم اور قوانین مروّجہ میں چست و چالاک ہوتے جاتے ہیں اُسی قدر نیک گوہری اور نیک کرداری کی طبعی خصلتیں اور حیا اور شرم اور خدا ترسی اور دیانت کی فطرتی خاصیتیں اُن میں کم ہوتی جاتی ہیں۔عیسائیوں کی تعلیم بھی سچائی اور ایمان داری کے اڑانے کے لئے کئی قسم کی سرنگیں طیار کر رہی ہے اور عیسائی لوگ اسلام کے مٹا دینے کے لئے جھوٹ اور بناوٹ کی تمام باریک باتوں کو نہایت درجہ کی جانکا ہی سے پیدا کر کے ہر ایک رہزنی کے موقع اور محل پر کام میں لا رہے ہیں اور بہکانے کے نئے نئے نسخے اور گمراہ کرنے کی جدید جدید صورتیں تراشی جاتی ہیں اور اُس اِنسان کامل کی سخت تو ہین کر رہے ہیں جو تمام مقدسوں کا فخر اور تمام مقربوں کا سرتاج اور تمام بزرگ رسولوں کا سردار تھا۔یہاں تک کہ ناٹک کے تما شاؤں میں نہایت شیطنت کے ساتھ اسلام اور ہادی پاک اسلام کی بُرے بُرے پیرائیوں میں تصویر میں