حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 83
۸۳ دعوت حق قُلْ إِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعُبِدِينَ۔یہ اشتہار پادری صاحبوں کی خدمت میں نہایت عجز اور ادب اور انکسار سے لکھا جاتا ہے کہ اگر یہ سیچ ہوتا کہ حضرت عیسی مسیح علیہ السلام در حقیقت خدا کا فرزند ہوتا یا خدا ہوتا تو سب سے پہلے میں اس کی پرستش کرتا اور میں تمام ملک میں اُس کی خدائی کی اشاعت کرتا اور اگر چہ میں دکھ اٹھاتا اور مارا جاتا۔اور قتل کیا جاتا اور اس کی راہ میں ٹکڑے ٹکڑے کیا جاتا تب بھی میں اس دعوت اور منادی سے باز نہ آتا۔لیکن اے عزیز و! خدا تم پر رحم کرے اور تمہاری آنکھیں کھولے حضرت عیسی علیہ السلام خدا نہیں وہ صرف ایک نبی ہے۔ایک ذرہ اس سے زیادہ نہیں اور بخدا میں وہ سچی محبت اس سے رکھتا ہوں جو تمہیں ہرگز نہیں اور جس نور کے ساتھ میں اسے شناخت کرتا ہوں تم ہر گز اسے شناخت نہیں کر سکتے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ خدا کا ایک پیارا اور برگزیدہ نبی تھا اور ان میں سے تھا جن پر خدا کا ایک خاص فضل ہوتا ہے اور جو خدا کے ہاتھ سے پاک کئے جاتے ہیں مگر خدا نہیں تھا۔اور نہ خدا کا بیٹا تھا۔میں نے یہ باتیں اپنی طرف سے نہیں کیں بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خالق ہے میرے پر ظاہر ہوا اور اُسی نے اس آخری زمانہ کے لئے مجھے مسیح موعود کیا۔اس نے مجھے بتلایا کہ سچ یہی ہے کہ یسوع ابن مریم نہ خدا ہے نہ خدا کا بیٹا ہے۔اور اُسی نے میرے ساتھ ہمکلام ہو کر مجھے یہ بتلایا کہ وہ نبی جس نے قرآن پیش کیا اور لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا وہ سچا نبی ہے۔اور وہی ہے جس کے قدموں کے نیچے نجات ہے اور بجز اس کی متابعت کے ہرگز ہرگز کسی کو کوئی ٹو ر حاصل نہیں ہو گا۔اور جب میرے خدا نے اس نبی کی وقعت اور قدر اور عظمت میرے پر ظاہر کی تو میں کانپ اُٹھا اور میرے بدن پر لرزہ پڑ گیا۔کیونکہ جیسا کہ حضرت عیسی مسیح کی تعریف میں لوگ حد سے بڑھ گئے یہاں تک کہ ان کو خدا بنا دیا اسی طرح اس مقدس نبی کا لوگوں نے قدر شناخت نہیں کیا جیسا کہ حق شناخت کرنے کا تھا اور جیسا کہ چاہئے لوگوں کو اب تک اُس کی عظمتیں معلوم نہیں۔وہی ایک نبی ہے جس نے توحید کا تم ایسے طور پر بویا جو آج تک ضائع نہیں ہوا۔وہی ایک نبی ہے جو ایسے وقت میں آیا جب تمام دنیا بگڑ گئی تھی اور ایسے وقت میں گیا جب ایک سمندر کی طرح توحید کو دنیا میں پھیلا گیا۔اور وہی ایک نبی ہے جس کے لئے ہر ایک زمانہ میں خدا اپنی غیرت الزخرف :٨٢