حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 82

۸۲ کے دائیں طرف بزرگی اور جلال کے تخت پر بیٹھا ہے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَ بَارِک وَسَلَّمُ اِنَّ اللهَ وَمَلَبِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوْا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا - تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۳۷ تا ۱۳۹) سواسی بنا پر یہ عاجز اس سلسلہ کے قائم رکھنے کے لئے مامور کیا گیا ہے اور چاہتا ہے کہ صحبت میں رہنے والوں کا سلسلہ اور بھی زیادہ وسعت سے بڑھا دیا جائے اور ایسے لوگ دن رات صحبت میں رہیں کہ جو ایمان اور محبت اور یقین کے بڑھانے کے لئے شوق رکھتے ہوں اور ان پر وہ انوار ظاہر ہوں کہ جو اس عاجز پر ظاہر کئے گئے ہیں۔اور وہ ذوق ان کو عطا ہو جو اس عاجز کو عطا کیا گیا ہے تا اسلام کی روشنی عام طور پر دنیا میں پھیل جائے اور حقارت اور ذلت کا سیاہ داغ مسلمانوں کی پیشانی سے دھویا جائے۔اسی کی بشارت دے کر خداوند نے مجھے بھیجا۔اور کہا کہ بخرام که وقت تو نزد یک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد لے فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۲ ۲۳۰) خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا۔ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے۔اور جب تک کوئی خدا سے رُوح القدس پا کر کھڑا نہ ہو سب میرے بعد مل کر کام کرو۔(رساله الوصیت، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۶ ، ۳۰۷) اس وقت جو ضرورت ہے وہ یقینا سمجھ لوسیف کی نہیں بلکہ قلم کی ہے۔ہمارے مخالفین نے اسلام پر جو شبہات وارد کئے ہیں اور مختلف سائنسوں اور مکاید کی رو سے اللہ تعالیٰ کے نیچے مذہب پر حملہ کرنا چاہا ہے۔اُس نے مجھے متوجہ کیا ہے کہ میں قلمی اسلحہ پہن کر اس سائنس اور علمی ترقی کے میدان کارزار میں اتروں اور اسلام کی روحانی شجاعت اور باطنی قوت کا کرشمہ بھی دکھاؤں۔میں کب اس میدان کے قابل ہوسکتا تھا یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی بے حد عنایت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ وہ میرے جیسے عاجز انسان کے ہاتھ سے اُس کے دین کی عزت ظاہر ہو۔(رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحه ۶۸، ملفوظات جلد اول صفحہ ۳۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) اب ظہور کر اور نکل کہ تیرا وقت نزدیک آ گیا اور اب وہ وقت آ رہا ہے کہ محمدی گڑھے میں سے نکال لئے جاویں گے اور ایک بلند اور مضبوط مینار پر ان کا قدم پڑے گا۔