حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 61
۶۱ وانت اسمـى الاعـلـى وانت منی بمنزلة توحیدی و تفریدی و انت منی بمنزلة المحبوبین علیک برکات و سلام سلام قولا من رب رحيم مظهر الحى و انت منى مبدء الامر۔وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحي يوحى فرمایا :۔میں اپنے قلب کو دیکھ کر یقین کرتا ہوں کہ کل انبیاء علیہم السلام طبعا ہر قسم کی تعریف اور مدح و ثنا سے کراہت کرتے تھے۔مگر جو کچھ خدا تعالیٰ نے ان کے حق میں بیان فرمایا ہے اپنے مصالح کی بنا پر فرمایا ہے۔اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ الفاظ میرے الفاظ نہیں خدا تعالیٰ کے الفاظ ہیں اور یہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی عزت اور جلال اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور عظمت اور جلال خاک میں ملا دیا گیا ہے اور حضرت عیسیٰ اور حضرت حسین کے حق میں ایسا غلو اور اطرا کیا گیا ہے کہ اس سے خدا کا عرش کا نپتا ہے۔اب جب کہ کروڑ ہا آدمی حضرت عیسی کی مدح و ثناء سے گمراہ ہو چکے ہیں اور ایسا ہی بے انتہا مخلوق حضرت حسین کی نسبت غلو اور اطرا کر کے ہلاک ہو چکی ہے تو خدا کی مصلحت اور غیرت اس وقت یہی چاہتی ہے کہ وہ تمام عزتوں کے کپڑے جو بے جا طور پر ان کو پہنائے گئے تھے اُن سے اتار کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خدا تعالیٰ کو پہنائے جاویں۔پس ہماری نسبت یہ کلمات درحقیقت خدا تعالی کی اپنی عزت کے اظہار اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے اظہار کے لئے ہیں۔فرمایا:۔میں حلفاً کہتا ہوں کہ میرے دل میں اصلی اور حقیقی جوش یہی ہے کہ تمام محامد اور مناقب اور تمام صفات جمیلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کروں۔میری تمام تر خوشی اسی میں ہے اور میری بعثت کی اصل غرض یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا میں قائم ہو۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ میری نسبت جس قدر تعریفی کلمات اور تجیدی باتیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں یہ بھی در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف راجع ہیں اس لئے کہ میں آپ کا ہی غلام ہوں اور آپ ہی کے مشکوۃ نبوت سے نور حاصل کرنے والا ہوں اور مستقل طور پر ہمارا کچھ بھی نہیں۔اسی سبب سے میرا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لے اور تو میرا اسم اعلیٰ ہے، تو مجھے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید تو میرے تمام محبوبوں کا قائم مقام ہے۔تجھ پر برکات اور سلامتی ہو۔سے تم پر اس خدا کا سلام جو رحیم ہے۔ہے۔زندہ خدا کا مظہر۔۵۔اور تو مجھ سے امیر مقصود کا مبدء ہے۔1 اور وہ اپنی خواہش کے ماتحت نہیں بولتا بلکہ وحی کا تابع ہے جو نازل کی جاتی ہے۔