حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 682 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 682

۶۸۲ نفس میں مشرق اور مغرب کی دوری ڈال اور میری زندگی اور میری موت اور میری ہر ایک قوت جو مجھے حاصل ہے اپنی ہی راہ میں کر۔اور اپنی ہی محبت میں مجھے زندہ رکھ اور اپنی ہی محبت میں مجھے مار اور اپنے ہی کامل محبین میں مجھے اٹھا۔اے ارحم الراحمین! جس کام کی اشاعت کے لئے تو نے مجھے مامور کیا ہے اور جس خدمت کے لئے تو نے میرے دل میں جوش ڈالا ہے اُس کو اپنے ہی فضل سے انجام تک پہنچا اور عاجز کے ہاتھ سے حجت اسلام مخالفین پر اور ان سب پر جو اسلام کی خوبیوں سے بے خبر ہیں پوری کر اور اس عاجز اور اس کے محبوں اور مخلصوں اور ہم مشربوں کو مغفرت اور مہربانی کے ظلّ اور حمایت میں رکھ کر دین و دنیا میں آپ ان کا متکفل بن اور اپنے رسول مقبول اور اس کے آل اور اصحاب پر زیادہ سے زیادہ درود و سلام و برکات نازل کر۔آمین یا رب العالمین ☆ الفضل مورخہ ۱۱ راکتو بر ۱۹۴۲ء صفحہ نمبر ۳ کالم نمبر ۴) اے میرے قادر خدا ! میری عاجزانہ دعائیں سن لے اور اس قوم کے کان اور دل کھول دے۔اور ہمیں وہ وقت دکھا کہ باطل معبودوں کہ پرستش دنیا سے اُٹھ جائے اور زمین پر تیری پرستش اخلاص سے کی جائے۔اور زمین تیرے راستباز اور موحد بندوں سے ایسی بھر جائے جیسا کہ سمندر پانی سے بھرا ہوا ہے۔اور تیرے رسول کریم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور سچائی دلوں میں بیٹھ جائے۔آمین اے میرے قادر خدا! مجھے یہ تبدیلی دنیا میں دکھا۔اور میری دُعائیں قبول کر جو ہر ایک طاقت اور قوت تجھ کو ہے۔اے قادر خدا! ایسا ہی کر۔آمین ثم آمین۔وَاخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن۔( تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۰۳) نوٹ :۔یہ دعا آپ نے حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی کو بذریعہ خط لکھی کہ ” آپ پر فرض ہے انہی الفاظ میں بلا تغییر و تبدل بیت اللہ میں حضرت ارحم الراحمین میں اس عاجز کی طرف سے کریں۔خط بطور یادداشت اپنے پاس رکھیں۔چنانچہ صوفی صاحب نے حسب الحکم ۱۳۰۲ھ حج اکبر کے دن بیت اللہ میں اس دعا کو بلند آواز سے پڑھا اور ساتھ کی جماعت آمین کہتی گئی۔