حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 59

۵۹ معارف اور علوم مجھے عطا فرمائے ہیں اس لئے اُن روحوں نے مجھ سے دشمنی کی جو سچائی کو نہیں چاہتیں اور تاریکی سے خوش ہیں مگر میں نے چاہا کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکے نوع انسان کی ہمدردی کروں۔(مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۱۳) دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک تو وہ جو خواہ مخواہ بلا کسی قسم کے استحقاق کے اپنے تئیں محامد، مناقب اور صفات محمودہ سے موصوف کرنا چاہتے ہیں گویا وہ یہ چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی کبریائی کی چادر آپ اوڑھ لیں۔ایسے لوگ لعنتی ہوتے ہیں۔دوسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو طبعا ہر قسم کی مدح و ثنا اور منقبت سے نفرت اور کراہت کرتے ہیں اور اگر وہ اپنے اختیار پر چھوڑ دئیے جاویں تو دل سے پسند کرتے ہیں کہ گوشتہ گمنامی میں زندگی گزار دیں۔مگر خدا تعالیٰ اپنے مصالح اور بار یک حکمتوں کی بنا پر ان کی تعریف اور تمجید کرتا ہے اور در حقیقت ہونا بھی اسی طرح چاہئے۔کیونکہ جن لوگوں کو وہ مامور کر کے بھیجتا ہے۔اُن کی ماموریت سے اس کا منشا یہ ہوتا ہے کہ اس کی حمد و ثنا اور جلال دنیا میں ظاہر ہو۔اگر ان ماموروں کی نسبت وہ یہ کہے کہ فلاں مامور جسے میں نے مبعوث کیا ہے ایسا نکما ، بُزدل نالائق ، کمینہ ، سفلہ اور ہر قسم کے فضائل سے عاری اور بیگانہ ہے تو کیا خدا تعالیٰ کی اس کے ذریعہ سے کوئی صفت قائم ہو سکے گی؟ حقیقت میں خدا کا ان کی تمجید اور مدارج اور فضائل بیان کرنا اپنے ہی جلال اور عظمت کی تمہید کے لئے ہوتا ہے۔وہ تو اپنے نفس سے بالکل خالی ہوتے ہیں اور ہر قسم کے مدح و ذتم سے بے پروا ہوتے ہیں۔چنانچہ سالہا سال اس سے پہلے جبکہ نہ کوئی مقابلہ تھا نہ گرد و پیش میں کوئی مجمع تھا نہ یہ مجلس اور اس کی کوئی تمہید تھی اور نہ دنیا میں کوئی شہرت تھی خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میری نسبت یہ فرمایا کہ:- يحمد الله من عرشه نحمدک و نصلی کنتم خير امة اخرجت للناس وافتخارًا للمؤمنين۔يا احمد فاضت الرّحمة على شفتیک انگ باعيننا۔يرفع الله ذكرك ويتم نـعـمـتـه علیک فی الدنيا والآخرة۔۔يا احمدی انت مرادی و معی ے خدا عرش پر سے تیری تعریف کر رہا ہے۔سے ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔سے تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدہ کے لئے نکالے گئے ہو۔تم مومنوں کا فخر ہو۔ہے اے احمد! تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی۔تو میری آنکھوں کے سامنے ہے۔۵ خدا تیرا ذکر بلند کرے گا اور اپنی نعمت دنیا اور آخرت میں تیرے پر پوری کرے گا۔1 اے میرے احمد ! تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔