حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 669 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 669

۶۶۹ قادر نہیں سمجھتا۔مگر اے سعید انسان تو ایسا مت کر۔تیرا خدا وہ ہے جس نے بے شمار ستاروں کو بغیر ستون کے لٹکا دیا اور جس نے زمین و آسمان کو محض عدم سے پیدا کیا۔کیا تو اس پر بدظنی رکھتا ہے کہ وہ تیرے کام میں عاجز آ جائے گا بلکہ تیری ہی بدظنی تجھے محروم رکھے گی۔ہمارے خدا میں بے شمار عجائبات ہیں مگر وہی دیکھتے ہیں جو صدق اور وفا سے اُس کے ہو گئے ہیں۔وہ غیروں پر جو اُس کی قدرتوں پر یقین نہیں رکھتے اور اس کے صادق وفادار نہیں ہیں وہ عجائبات ظاہر نہیں کرتا۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱) جہاں تک مجھے خدا تعالیٰ نے دعاؤں کے بارے میں علم دیا ہے وہ یہ ہے کہ دعا کے قبول ہونے کے لئے تین شرطیں ہیں:۔اول دعا کرنے والا کامل درجہ پر متقی ہو کیونکہ خدا تعالیٰ کا مقبول وہی بندہ ہوتا ہے جس کا شعار تقویٰ ہو اور جس نے تقویٰ کی باریک راہوں کو مضبوط پکڑا ہو اور جو امین اور متقی اور صادق العہد ہونے کی وجہ سے منظور نظر الہی ہو اور محبت ذاتیہ الہیہ سے معمور اور پر ہو۔دوسری شرط یہ ہے کہ اس کی عقد ہمت اور توجہ اس قدر ہو کہ گویا ایک شخص کے زندہ کرنے کے لئے ہلاک ہو جائے اور ہر ایک شخص کو قبر سے باہر نکالنے کے لئے آپ گور میں داخل ہو۔اس میں راز یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنے مقبول بندے اس سے زیادہ پیارے ہوتے ہیں جیسا کہ ایک خوبصورت بچہ جو ایک ہی ہو اس کی ماں کو پیارا ہوتا ہے۔پس جبکہ خدائے کریم ورحیم دیکھتا ہے کہ ایک مقبول ومحبوب اس کا ایک شخص کی جان بچانے کے لئے روحانی مشقتوں اور تضرعات اور مجاہدات کی وجہ سے اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ قریب ہے کہ اس کی جان نکل جائے تو اس کو علاقہ محبت کی وجہ سے ناگوار گذرتا ہے کہ اسی حال میں اُس کو ہلاک کر دے۔تب اس کے لئے اس دوسرے شخص کا گناہ بخش دیتا ہے۔جس کے لئے وہ پکڑا گیا تھا۔پس اگر وہ کسی مہلک بیماری میں گرفتار ہے یا اور کسی بلا میں اسیر و لاچار ہے تو اپنی قدرت سے ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جس سے رہائی ہو جائے اور بسا اوقات اُس کا ارادہ ایک شخص کے قطعی طور پر ہلاک کرنے یا بر باد کرنے پر قرار یافتہ ہوتا ہے لیکن جب ایک مصیبت زدہ کی خوش قسمتی سے ایسا شخص پُر درد تضرعات کے ساتھ درمیان میں آپڑتا ہے جس کو حضرت عزت میں وجاہت ہے تو وہ مثل مقدمہ جو سزا دینے کے لئے مکمل اور مرتب ہو چکی ہے چاک کرنی پڑتی ہے کیونکہ اب بات اغیار سے یار کی طرف منتقل ہو جاتی ہے اور یہ کیونکر ہو سکے کہ خدا اپنے سچے دوستوں کو عذاب دے۔