حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 668
۶۶۸ رقت اور سوز و گداز پیدا ہو جاتا ہے۔لیکن جب دعا کی قبولیت کا وقت نہیں ہوتا تو دل میں اطمینان اور رجوع پیدا نہیں ہوتا۔طبیعت پر کتنا ہی زور ڈالو مگر طبیعت متوجہ نہیں ہوتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی خدا تعالیٰ اپنی قضا و قدر منوانا چاہتا ہے اور کبھی دعا قبول کرتا ہے اس لئے میں تو جب تک اذنِ الہی کے آثار نہ پالوں قبولیت کی کم امید کرتا ہوں اور اُس کی قضاء وقدر پر اس سے زیادہ خوشی کے ساتھ جو قبولیت دعا میں ہوتی ہے راضی ہو جاتا ہوں کیونکہ اس رضا بالقضاء کے ثمرات اور برکات اس سے بہت زیادہ ہیں۔الحکم مورخہ ۳۱ / جولائی وہ اراگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۳ کالم نمبر۔ملفوظات جلد اول صفحه ۳۰۴ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) یہ سچی بات ہے کہ جو شخص اعمال سے کام نہیں لیتا وہ دعا نہیں کرتا بلکہ خدا تعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے۔اس لئے دُعا کرنے سے پہلے اپنی تمام طاقتوں کو خرچ کرنا ضروری ہے اور یہی معنی اس دعا کے ہیں۔پہلے لازم ہے کہ انسان اپنے اعتقاد اعمال میں نظر کرے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ اصلاح اسباب کے پیرایہ میں ہوتی ہے۔وہ کوئی نہ کوئی ایسا سبب پیدا کر دیتا ہے کہ جو اصلاح کا موجب ہو جاتا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ ۷۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) پنجابی میں ایک مثل ہے جو منگے سومر ر ہے مرے سومنگن جا۔لوگ کہتے ہیں کہ دعا کرو۔دعا کرنا تو مرنا ہوتا ہے۔اس ( پنجابی مصرعہ ) کے یہی معنے ہیں کہ جس پر نہایت درجہ کا اضطراب ہوتا ہے وہ دعا کرتا ہے دعا میں ایک موت ہے اور اُس کا بڑا اثر یہی ہوتا ہے کہ انسان ایک طرح سے مرجاتا ہے مثلاً ایک انسان ایک قطرہ پانی کا پی کر اگر دعوی کرے کہ میری پیاس بجھ گئی یا اُسے بڑی پیاس تھی تو وہ جھوٹا ہے ہاں اگر پیالہ بھر کر پیوے تو اس بات کی تصدیق ہو گی۔پوری سوزش اور گدازش کے ساتھ ایک رنگ میں جب دعا کی جاتی ہے حتی کہ روح گداز ہو کر آستانہ الہی پر گر پڑتی ہے اور اسی کا نام دعا ہے اور الہی سنت یہی کہ جب ایسی دعا ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ یا تو اُسے قبول کرتا ہے اور یا اُسے جواب دیتا ہے۔البدر مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۸۶ کالم نمبر ۲۔ملفوظات جلد دوم صفحه ۶۳۰ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) جب تو دعا کے لئے کھڑا ہو تو تجھے لازم ہے کہ یہ یقین رکھے کہ تیرا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے تب تیری دعا منظور ہوگی اور تو خدا کی قدرت کے عجائبات دیکھے گا جو ہم نے دیکھے ہیں اور ہماری گواہی رؤیت سے ہے نہ بطور قصہ کے اُس شخص کی دعا کیونکر منظور ہو اور خود کیونکر اس کو بڑی مشکلات کے وقت جو اس کے نزدیک قانون قدرت کے مخالف ہیں دعا کرنے کا حوصلہ پڑے جو خدا کو ہر ایک چیز پر