حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 667 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 667

رہیں۔بلکہ دُعا اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ، سکھلائی گئی ہے اور فرض کیا گیا ہے کہ پنجوقت یہ دعا کریں۔پھر کس قدر غلطی ہے کہ کوئی شخص دعا کی روحانیت سے انکار کرے۔قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ دعا اپنے اندر ایک روحانیت رکھتی ہے اور دُعا سے ایک فیض نازل ہوتا ہے جو طرح طرح کے پیرایوں میں کامیابی کا ثمرہ بخشتا ہے۔ہماری تقریر مذکورہ بالا سے ہر ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہ جس طرح با وجود تسلیم مسئلہ قضاء و قدر کے صد ہا امور میں یہی سنت اللہ ہے کہ جد و جہد سے ثمرہ مترتب ہوتا ہے۔اسی طرح دعا میں بھی جو جد وجہد کی جائے وہ بھی ہرگز ضائع نہیں جاتی۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایک جگہ پر اپنی شناخت کی یہ علامت ٹھہرائی ہے کہ تمہارا خدا وہ خدا ہے جو بے قراروں کی دعا سنتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے آمن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ "۔پھر جبکہ خدا تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کو اپنی ہستی کی علامت ٹھہرائی ہے تو پھر کس طرح کوئی عقل اور حیا والا گمان کر سکتا ہے کہ دعا کرنے پر کوئی آثار صریحہ اجابت کے مترتب نہیں ہوتے اور محض ایک رسمی امر ہے جس میں کچھ بھی روحانیت نہیں؟ میرے خیال میں ہے کہ ایسی بے ادبی کوئی بچے ایمان والا ہر گز نہیں کرے گا جبکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ جس طرح زمین و آسمان کی صنعت پر غور کرنے سے سچا خدا پہچانا جاتا ہے اسی طرح دعا کی قبولیت کو دیکھنے سے خدا تعالیٰ پر یقین آتا ہے۔پھر اگر دعا میں کوئی روحانیت نہیں اور حقیقی اور واقعی طور پر دعا پر کوئی نمایاں فیض نازل نہیں ہوتا تو کیونکر دعا خدا تعالیٰ کی شناخت کا ایسا ذریعہ ہو سکتی ہے جیسا کہ زمین و آسمان کے اجرام و اجسام ذریعہ ہیں؟ بلکہ قرآن شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ نہایت اعلیٰ ذریعہ خدا شناسی کا دعا ہی ہے اور خدا تعالیٰ کی ہستی اور صفت کا ملہ کی معرفت تامہ یقینیہ کاملہ صرف دعا سے ہی حاصل ہوتی ہے اور کسی ذریعہ سے حاصل نہیں ہوتی۔وہ امر جو ایک بجلی کی چمک کی طرح یکدفعہ انسان کو تاریکی کے گڑھے سے کھینچ کر روشنی کی کھلی فضا میں لاتا اور خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے۔وہ دعا ہی ہے۔دعا کے ذریعہ سے ہزاروں بدمعاش صلاحیت پر آ جاتے ہیں ہزاروں بگڑے ہوئے درست ہو جاتے ہیں۔اصل ایام اصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۶۰،۲۵۹) جب اللہ تعالیٰ کا فضل قریب آتا ہے تو وہ دعا کی قبولیت کے اسباب پہونچا دیتا ہے۔دل میں ایک الفاتحة : ٦ النمل: ٦٣