حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 662 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 662

۶۶۲ جلدی کرتا ہے وہ نقصان ہی اُٹھاتا ہے اور نہ نرا نقصان بلکہ ایمان کو بھی صدمہ پہنچاتا ہے۔بعض ایسی حالت میں دہر یہ ہو جاتے ہیں۔ہمارے گاؤں میں ایک نجار تھا اس کی عورت بیمار ہوئی اور آخر وہ مرگئی اُس نے کہا کہ اگر خدا ہوتا تو میں نے اتنی دعائیں کی تھیں وہ قبول ہو جاتیں اور میری عورت نہ مرتی اور اس طرح پر وہ دہر یہ ہو گیا لیکن سعید اگر اپنے صدق اور اخلاص سے کام لے تو اُس کا ایمان بڑھتا ہے اور سب کچھ ہو بھی جاتا ہے۔زمین کی دولتیں خدا تعالیٰ کے آگے کیا چیز ہیں۔وہ ایک دم میں سب کچھ کر سکتا ہے۔کیا دیکھا نہیں کہ اس نے اس قوم کو جس کو کوئی جانتا بھی نہ تھا بادشاہ بنا دیا اور بڑی بڑی سلطنتوں کو ان کا تابع فرمان بنا دیا اور غلاموں کو بادشاہ بنا دیا۔انسان اگر تقویٰ اختیار کرے اور خدا تعالیٰ کا ہو جاوے تو دنیا میں اعلیٰ درجہ کی زندگی ہو۔مگر شرط یہی ہے کہ صادق اور جوانمرد ہو کر دکھائے دل متزلزل نہ ہو اور اس میں کوئی آمیزش ریاء کاری و شرک کی نہ ہو۔ابراہیم علیہ السلام میں وہ کیا بات تھی جس نے اس کو ابوالملت اور ابو الحفاء قرار دیا اور خدا تعالیٰ نے اس کو اس قدر عظیم الشان برکتیں دیں کہ شمار میں نہیں آ سکتیں۔وہ یہی صدق اور اخلاص تھا۔دیکھو ابراہیم علیہ السلام نے بھی ایک دعا کی تھی کہ اُس کی اولاد میں سے عرب میں ایک نبی ہو۔پھر کیا وہ اُسی وقت قبول ہو گئی ؟ ابراہیم علیہ السلام کے بعد ایک عرصہ دراز تک کسی کو خیال بھی نہیں آیا کہ اُس دعا کا کیا اثر ہوالیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی صورت میں وہ دعا پوری ہوئی اور پھر کس شان کے ساتھ پوری ہوئی۔(احکام ۲۸ فروری ۱۹۰۳ ، صفحہ ۲۰۱۔ملفوظات جلد دوم صفحه ۶۹۲ تا ۶ ۶۹ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ دُعا کا قبول ہونا دوطور سے ہوتا ہے ایک بطور ابتلاء اور ایک بطور اصطفاء۔بطور ابتلاء تو کبھی کبھی گنہگاروں اور نافرمانوں بلکہ کافروں کی دعا بھی قبول ہو جاتی ہے مگر ایسا قبول ہونا حقیقی قبولیت پر دلالت نہیں کرتا۔بلکہ از قبیل استدراج و امتحان ہوتا ہے۔لیکن جو بطور اصطفاء دعا قبول ہوتی ہے اُس میں یہ شرط ہے کہ دعا کرنے والا خدائے تعالی کے برگزیدہ بندوں میں سے ہو اور چاروں طرف سے برگزیدگی کے انوار و آثار اُس میں ظاہر ہوں کیونکہ خدا تعالیٰ حقیقی قبولیت کے طور پر نافرمانوں کی دُعا ہر گز نہیں سنتا بلکہ انہیں کی سنتا ہے جو اس کی نظر میں راستباز اور اس کے حکم پر چلنے والے ہیں سو ابتلاء اور اصطفاء کی قبولیت ادعیہ میں مابہ الامتیاز یہ ہے کہ جو ابتلاء کے طور پر دعا قبول ہوتی ہے اس میں متقی اور خدا دوست ہونا شرط نہیں۔اور نہ اس میں یہ ضرورت ہے کہ خدائے تعالی دعا کو قبول کر کے بذریعہ اپنے مکالمہ خاص کے اُس کی قبولیت سے اطلاع بھی دیوے۔اور نہ وہ دعائیں ایسی اعلیٰ