حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 57
۵۷ میں اپنے نفس پر اتنا قابو رکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے میرے نفس کو گندی سے گندگی گالی دیتا ر ہے آخر وہی شرمندہ ہو گا اور اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا۔الحکم مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۰ء صفحه ۸،۷ - ملفوظات جلد اوّل صفحه ۳۰۲ ایڈیشن ۲۰۰۳) میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ تفہیم الہی میرے شامل حال ہے اور وہ عزّ اسمہ جس وقت چاہتا ہے بعض معارف قرآنی میرے پر کھولتا ہے اور اصل منشاء بعض آیات کا معہ ان ثبوت کے میرے پر ظاہر فرماتا ہے اور میخ آہنی کی طرح میرے دل کے اندر داخل کر دیتا ہے۔اب میں اس خدا داد نعمت کو کیونکر چھوڑ دوں اور جو فیض بارش کی طرح میرے پر ہو رہا ہے کیونکر اس سے انکار کروں! الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۱) ید بیضا که با او تابنده باز با ذوالفقار ے بینم را یعنی اس کا وہ روشن ہاتھ جو تمام کے حجت کی رُو سے تلوار کی طرح چمکتا ہے پھر میں اُس کو ذوالفقار کے ساتھ دیکھتا ہوں یعنی ایک زمانہ ذوالفقار کا تو وہ گزر گیا کہ جب ذوالفقار علی كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ کے ہاتھ میں تھی مگر خدا تعالیٰ پھر ذوالفقار اس امام کو دے دے گا۔اس طرح پر کہ اس کا چمکنے والا ہاتھ وہ کام کرے گا جو پہلے زمانہ میں ذوالفقار کرتی تھی۔سو وہ ہاتھ ایسا ہو گا کہ گویاذ والفقار علی كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ ہے جو پھر ظاہر ہوگئی ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ امام سلطان القلم ہوگا اور اُس کی قلم ذوالفقار کا کام دے گی۔یہ پیش گوئی بعینہ اس عاجز کے اُس الہام کا ترجمہ ہے جو اس وقت سے دس برس پہلے براہین میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے كِتَابُ الْوَلِيِّ ذُو الْفَقَارِ عَلِيٍّ یعنی کتاب اس ولی کی ذوالفقار علی کی ہے۔یہ اس عاجز کی طرف اشارہ ہے۔اسی بنا پر بارہا اس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے۔(نشان آسمانی۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۷۵) اگر میں خود دعویٰ کرتا ہوں تو بے شک مجھے جھوٹا سمجھو لیکن اگر خدا کا پاک نبی اپنی پیشگوئیوں کے ذریعہ سے میری گواہی دیتا ہے اور خود خدا میرے لئے نشان دکھلاتا ہے تو اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو۔یہ مت کہو کہ ہم مسلمان ہیں ہمیں کسی مسیح وغیرہ کے قبول کرنے کی کیا ضرورت ہے۔میں تمہیں سچ سچ کہتا لے یعنی اس کا وہ روشن ہاتھ جو تمام کے حجت کی رو سے تلوار کی طرح چمکتا ہے پھر میں اس کو ذوالفقار کے ساتھ دیکھتا ہوں۔