حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 657
سید صاحب کا یہ قول ہے کہ گویا قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے تمام دعاؤں کے قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے حالانکہ تمام دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔یہ اُن کی سخت غلط فہمی ہے اور یہ آیت اُدعُونِی اسْتَجِبْ لَكُمْ ان کے مدعا کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔کیونکہ یہ دُعا جو آیت اُدعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ میں بطور امر کے بجالانے کے لئے فرمائی گئی ہے اس سے مراد معمولی دُعا ئیں نہیں ہیں بلکہ وہ عبادت ہے جو انسان پر فرض کی گئی ہے۔کیونکہ امر کا صیغہ یہاں فرضیت پر دلالت کرتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ کل دعائیں فرض میں داخل نہیں ہیں۔بلکہ بعض جگہ اللہ جلشانہ نے صابرین کی تعریف کی ہے جو اناللہ پر ہی کفایت کرتے ہیں۔اور اس دعا کی فرضیت پر بڑا قرینہ یہ ہے کہ صرف امر پر ہی کفایت نہیں کی گئی بلکہ اُس کو عبادت کے لفظ سے یاد کر کے بحالت نافرمانی عذاب جہنم کی وعید اس کے ساتھ لگا دی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ دوسری دعاؤں میں یہ وعید نہیں بلکہ بعض اوقات انبیاء علیہم الصلوة والسلام کو دعا مانگنے پر زجر و توبیخ کی گئی ہے۔چنانچہ انی اعظُكَ اَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَهِلِينَ " اس پر شاہد ہے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر ہر دعا عبادت ہوتی تو حضرت نوح علیہ السلام کو لَا تَسْلُن کا تازیانہ کیوں لگایا جاتا اور بعض اوقات اولیاء اور انبیاء دعا کرنے کو سوء ادب سمجھتے رہے ہیں اور صلحاء نے ایسی دعاؤں میں استفتاء قلب پر عمل کیا ہے یعنی اگر مصیبت کے وقت دل نے دعا کرنے کا فتویٰ دیا تو دُعا کی طرف متوجہ ہوئے۔اور اگر صبر کے لئے فتویٰ دیا تو پھر صبر کیا اور دعا سے منہ پھیر لیا۔ماسوا اس کے اللہ تعالیٰ نے دوسری دعاؤں میں قبول کرنے کا وعدہ نہیں کیا بلکہ صاف فرما دیا ہے کہ چاہوں تو قبول کروں اور چاہوں تو رڈ کروں۔جیسا کہ یہ آیت قرآن کی صاف بتلا رہی ہے اور وہ یہ بے بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُوْنَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ اِنْ شَآءَ کے سورۃ انعام الجز نمبرے اور اگر ہم تنز لامان بھی لیں کہ اس مقام میں لفظ اُدعُوا سے عام طور پر دعا ہی مراد ہے تو ہم اس بات کے ماننے سے چارہ نہیں دیکھتے کہ یہاں دعا سے وہ دعا مراد ہے جو جمیع شرائط ہو اور تمام شرائط کو جمع کر لینا انسان کے اختیار میں نہیں جب تک توفیق از لی یاور نہ ہو۔اور یہ بھی یادر ہے کہ دعا کرنے میں صرف تضرع کافی نہیں ہے بلکہ تقویٰ اور طہارت اور راست گوئی اور کامل یقین اور کامل محبت اور کامل توجہ اور یہ کہ جو شخص اپنے لئے دعا کرتا ہے یا جس کے لئے دعا کی گئی ہے اُس کی دنیا اور آخرت کے لئے اس بات کا حاصل ہونا خلاف مصلحتِ الہی بھی نہ ہو کیونکہ بسا اوقات دعا میں اور شرائط تو سب جمع ہو جاتے ہیں ل المؤمن: ٦١ هود: ۴۷ الانعام: ۴۲