حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 656 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 656

میں ایک عجیب ماجرا گذرا کہ لاکھوں مُردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں ایک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سُنا۔کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچادیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس اُمی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔اللھم صَلِّ وَ سَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَالِهِ بِعَدَدِ هَمِهِ وَ غَمِهِ وَ حُزْنِهِ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ وَ اَنْزِلْ عَلَيْهِ اَنْوَارَ رَحْمَتِكَ إِلَى الْأَبَد۔اور میں اپنے ذاتی تجربہ سے بھی دیکھ رہا ہوں کہ دعاؤں کی تاثیر آب و آتش کی تاثیر سے بڑھ کر ہے بلکہ اسباب طبعیہ کے سلسلہ میں کوئی چیز ایسی عظیم التاثیر نہیں جیسی کہ دعا ہے۔اور اگر یہ شبہ ہو کہ بعض دعا ئیں خطا جاتی ہیں اور اُن کا کچھ اثر معلوم نہیں ہوتا تو میں کہتا ہوں کہ یہی حال دواؤں کا بھی ہے۔کیا دواؤں نے موت کا دروازہ بند کر دیا ہے؟ یا اُن کا خطا جانا غیر ممکن ہے؟ مگر کیا با وجود اس بات کے کوئی اُن کی تاثیر سے انکار کر سکتا ہے؟ یہ سچ ہے کہ ہر ایک امر پر تقدیر محیط ہو رہی ہے۔مگر تقدیر نے علوم کو ضائع اور بے حرمت نہیں کیا اور نہ اسباب کو بے اعتبار کر کے دکھلایا۔بلکہ اگر غور کر کے دیکھو تو یہ جسمانی اور رُوحانی اسباب بھی تقدیر سے باہر نہیں ہیں۔مثلاً اگر ایک بیمار کی تقدیر نیک ہو تو اسباب علاج پورے طور پر میسر آ جاتے ہیں اور جسم کی حالت بھی ایسے درجہ پر ہوتی ہے کہ وہ اُن سے نفع اٹھانے کے لئے مستعد ہوتا ہے۔تب دوا نشانہ کی طرح جا کر اثر کرتی ہے یہی قاعدہ دعا کا بھی ہے۔یعنی دعا کے لئے بھی تمام اسباب و شرائط قبولیت اسی جگہ جمع ہوتے ہیں جہاں ارادہ الہی اس کے قبول کرنے کا ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے نظام جسمانی اور روحانی کو ایک ہی سلسلہ مؤثرات اور متاثرات میں باندھ رکھا ہے۔پس سید صاحب کی سخت غلطی ہے کہ وہ نظام جسمانی کا تو اقرار کرتے ہیں مگر نظام روحانی سے منکر ہو بیٹھے ہیں! بالآ خر میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر سید صاحب اپنے اس غلط خیال سے تو بہ نہ کریں اور یہ کہیں کہ دعاؤں کے اثر کا ثبوت کیا ہے تو میں ایسی غلطیوں کے نکالنے کے لئے مامور ہوں۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ اپنی بعض دعاؤں کی قبولیت سے پیش از وقت سید صاحب کو اطلاع دوں گا اور نہ صرف اطلاع بلکہ چھپوا دوں گا مگر سید صاحب ساتھ ہی یہ بھی اقرار کریں کہ وہ بعد ثابت ہو جانے میرے دعوی کے اپنے اس غلط خیال سے رجوع کریں گے۔