حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 654
۶۵۴ لیکن اپنے برگزیدوں کی توجہ اور عقدِ ہمت اور تضرع کی بھری ہوئی دعاؤں کو فقط مُردہ کی طرح رہنے دے جن میں ایک ذرہ بھی اثر نہ ہو؟ کیا یہ ممکن ہے کہ نظام الہی میں اختلاف ہو اور وہ ارادہ جو خدا تعالیٰ نے دواؤں میں اپنے بندوں کی بھلائی کے لئے کیا تھا وہ دواؤں میں مرغی نہ ہو؟ نہیں نہیں ! ہرگز نہیں !! بلکہ خود سید صاحب دعاؤں کی حقیقی فلاسفی سے بے خبر ہیں۔اور اُن کی اعلیٰ تا شیروں پر ذاتی تجربہ نہیں رکھتے اور ان کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی ایک مدت تک ایک پورانی اور سال خوردہ اور مسلوب القویٰ دوا کو استعمال کرے اور پھر اس کو بے اثر پا کر اس دوا پر عام حکم لگا دے کہ اس میں کچھ بھی تا خیر نہیں۔افسوس! صد افسوس که سید صاحب با وجود یکه پیرانہ سالی تک پہنچ گئے مگر اب تک اُن پر یہ سلسلہ نظام قدرت مخفی رہا کہ کیونکر قضاء و قدر کو اسباب سے وابستہ کر دیا گیا ہے اور کس قدر یہ سلسلہ اسباب اور مستیات کا باہم گہرے اور لازمی تعلقات رکھتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس دھوکے میں پھنس گئے کہ انہوں نے خیال کر لیا کہ گویا بغیر ان اسباب کے جو قدرت نے روحانی اور جسمانی طور پر مقرر کر رکھے ہیں کوئی چیز ظہور پذیر ہو سکتی ہے۔یوں تو دنیا میں کوئی چیز بھی مقدر سے خالی نہیں۔مثلاً جو انسان آگ اور پانی اور ہوا اور مٹی اور اناج اور نباتات اور حیوانات و جمادات وغیرہ سے فائدہ اٹھاتا ہے وہ سب مقدرات ہی ہیں لیکن اگر کوئی نادان ایسا خیال کرے کہ بغیر ان تمام اسباب کے جو خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھے ہیں اور بغیر ان راہوں کے جو قدرت نے معین کر دی ہیں ایک چیز بغیر توسط جسمانی یا روحانی وسائل کے حاصل ہو سکتی ہے تو ایسا شخص گویا خدا تعالیٰ کی حکمت کو باطل کرنا چاہتا ہے۔میں نہیں دیکھتا کہ سید صاحب کی تقریر کا بجز اس کے کچھ اور بھی ماحصل ہے کہ وہ دُعا کو مجملہ ان اسباب مؤثرہ کے نہیں سمجھتے جن کو انہوں نے بڑی مضبوطی سے تسلیم کیا ہوا ہے بلکہ اس راہ میں حد سے زیادہ آگے قدم رکھ دیا ہے مثلاً اگر سید صاحب کے پاس آگ کی تاثیر کا ذکر کیا جائے تو وہ ہرگز اس سے منکر نہیں ہوں گے اور ہرگز یہ نہیں کہیں گے کہ اگر کسی کا جلنا مقدر ہے تو بغیر آگ کے بھی جل رہے گا۔تو پھر میں حیران ہوں کہ وہ باوجود مسلمان ہونے کے دُعا کی تاثیروں سے جو آگ کی طرح کبھی اندھیرے کو روشن کر دیتی ہیں اور کبھی گستاخ دست انداز کا ہاتھ جلا دیتی ہیں کیوں منکر ہیں۔کیا ان کو دعاؤں کے وقت تقدیر یاد آ جاتی ہے اور جب آگ وغیرہ کا ذکر کریں تو پھر تقدیر بھول جاتی ہے؟ کیا ان دونوں چیزوں پر ایک ہی تقدیر حاوی نہیں ہے؟ پھر جس حالت میں باوجود تقدیر ماننے کے وہ اسباب مؤثرہ کو اس شدت سے مانتے ہیں کہ اس کے غلو میں وہ بدنام بھی ہو گئے ہیں تو پھر اس کا کیا موجب ہے کہ وہ نظام قدرت جس کو وہ