حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 652
۶۵۲ وہ سوال بہر حال پورا کر دیا جائے تو دو شکلیں پیش آتی ہیں۔اوّل یہ کہ ہزاروں دعا ئیں نہایت عاجزی اور اضطراری سے کی جاتی ہیں مگر سوال پورا نہیں ہوتا جس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ دعا قبول نہیں ہوئی حالانکہ خدا نے استجابت دعا کا وعدہ کیا ہے۔دوسری یہ کہ جو امور ہونے والے ہیں وہ مقدر ہیں اور جو نہیں ہونے والے وہ بھی مقدر ہیں۔ان مقدرات کے برخلاف ہرگز نہیں ہوسکتا۔پس اگر استجابت دعا کے معنے سوال کا پورا کرنا قرار دیئے جائیں تو خدا کا یہ وعدہ کہ أَدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ ان سوالوں پر جن کا ہونا مقدر نہیں ہے صادق نہیں آ سکتا۔یعنی ان معنوں کے رو سے یہ عام وعدہ استجابت دعا کا باطل ٹھہرے گا کیونکہ سوالوں کا وہی حصہ پورا کیا جاتا ہے جس کا پورا کیا جانا مقدر ہے۔لیکن استجابت دعا کا وعدہ عام ہے۔جس میں کوئی بھی استثناء نہیں۔پھر جس حالت میں بعض آیتیں ظاہر کر رہی ہیں کہ جن چیزوں کا دیا جانا مقدر نہیں وہ ہرگز دی نہیں جاتیں اور بعض آیتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی دعا رد نہیں ہوتی اور سب کی سب قبول کی جاتی ہیں اور نہ صرف اسی قدر بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمام دعاؤں کے قبول کرنے کا وعدہ کر لیا ہے جیسا کہ آیت ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لکم سے ظاہر ہے۔پھر اس تناقض اور تعارض آیات سے بجز اس کے کیونکر مخلصی حاصل ہو کہ استجابت دُعا سے عبادت کا قبول کرنا مراد لیا جائے یعنی یہ معنے کئے جائیں کہ دعا ایک عبادت ہے اور جب وہ دل سے اور خشوع سے اور خضوع سے کی جائے تو اس کے قبول کرنے کا خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔پس استجابت دعا کی حقیقت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ وہ دعا ایک عبادت متصور ہو کر اُس پر ثواب مترتب ہوتا ہے۔ہاں اگر مقدر میں ایک چیز کا ملنا ہے اور اتفاقاً اس کے لئے دعا بھی کی گئی تو وہ چیز مل جاتی ہے مگر نہ دعا سے بلکہ اس کا ملنا مقد رتھا۔اور دعا میں بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب دعا کرنے کے وقت خدا کی عظمت اور بے انتہا قدرت کا خیال اپنے دل میں جمایا جاتا ہے تو وہ خیال حرکت میں آ کر ان تمام خیالات پر جن سے اضطرار پیدا ہوا ہے غالب ہو جاتا ہے اور انسان کو صبر اور استقلال پیدا ہو جاتا ہے اور ایسی کیفیت کا دل میں پیدا ہو جانا لا زمہ عبادت ہے اور یہی دعا کا مستجاب ہونا ہے۔پھر سید صاحب اپنے رسالہ کے اخیر میں لکھتے ہیں کہ جو لوگ حقیقت دعا سے ناواقف اور جو حکمت اس میں ہے اس سے بے خبر ہیں وہ کہہ سکتے ہیں کہ جب یہ امر مسلم ہے کہ جو مقدر نہیں ہے وہ نہیں ہونے کا۔تو دعا سے کیا فائدہ ہے یعنی جبکہ مقدر بہر حال مل رہے گا خواہ دعا کر دیا نہ کرو اور جس کا ملنا مقدر نہیں اُس کے لئے المؤمن: ٦١