حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 651
۶۵۱ دعا میں سچ کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری چلا ہٹ ایسی ہی اضطراری ہو تو وہ اس کے فضل اور رحمت کو جوش دلاتی ہے اور اس کو کھینچ لاتی ہے اور میں اپنے تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں کہ خدا کے فضل اور رحمت کو جو قبولیت دعا کی صورت میں آتا ہے میں نے اپنی طرف کھینچتے ہوئے محسوس کیا ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ دیکھا ہے۔ہاں آج کل کے زمانہ کے تاریک دماغ فلاسفر اس کو محسوس نہ کر سکیں یا نہ دیکھ سکیں تو یہ صداقت دنیا سے اُٹھ نہیں سکتی اور خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ میں قبولیت دعا کا نمونہ دکھانے کے لئے ہر وقت طیار ہوں۔( الحکم ۳۱ را گست ۱۹۰۱ء صفحہ ۳ کالم ۲۱۔ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۲۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) سیّد احمد خانصاب کے سی۔ایس۔آئی کے رسالہ الدعاء والاستجابة اور رسالہ تحریر فی اصول التفسیر پر ایک نظر۔اے اسیر عقل خود برہستی خود کم بناز کیں سپہر بوالعجائب چوں تو بسیار آورد غیر را هرگز نمی باشد گذر در کوئے حق ہر کہ آید ز آسمان او راز آن یار آورد خود بخود فهمیدن قرآن گمان باطل است هر که از خود آورد او نجس و مردار آورد سید صاحب اپنے رسالہ مندرجہ عنوان میں دعا کی نسبت اپنا یہ عقیدہ ظاہر کرتے ہیں کہ استجابت دعا کے یہ معنے نہیں ہیں کہ جو کچھ دعا میں مانگا گیا ہے وہ دیا جائے کیونکہ اگر استجابت دعا کے یہی معنے ہوں کہ لے اے اپنی عقل کے قیدی اپنی ہستی پر ناز نہ کر کہ یہ عجیب آسمان تیری طرح کے بہت سے آدمی لایا کرتا ہے۔ے خدا کے کوچہ میں غیر کو ہر گز دخل نہیں جو آسمان سے آتا ہے وہی اس یار کے اسرار ہمراہ لاتا ہے۔سے آپ ہی آپ قرآن کو سمجھ لینا ایک غلط خیال ہے جو شخص اپنے پاس سے اس کا مطلب بیان کرتا ہے وہ گندگی اور مردار پیش کرتا ہے۔