حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 56
۵۶ اسلام سے مراد یہی سلسلہ ہوگا۔یہ باتیں انسان کی باتیں نہیں۔یہ اس خدا کی وحی ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۱۸۱ ۱۸۲) یہ عاجز اپنے ذاتی تجربہ سے بیان کرتا ہے کہ فی الحقیقت سورۂ فاتحہ مظہر انوار الہی ہے۔اس قدر عجائبات اس سورۃ کے پڑھنے کے وقت دیکھے گئے ہیں کہ جن سے خدا کے پاک کلام کا قدر و منزلت معلوم ہوتا ہے۔اس سورہ مبارکہ کی برکت سے اور اس کی تلاوت کے التزام سے کشف مغیبات اس درجہ تک پہنچ گیا کہ صد با اخبار غیبیہ قبل از وقوع منکشف ہوئیں اور ہر یک مشکل کے وقت اس کے پڑھنے کی حالت میں عجیب طور پر رفع حجاب کیا گیا۔اور قریب تین ہزار کے کشف صحیح اور رویا صادقہ یاد ہے کہ جواب تک اس عاجز سے ظہور میں آچکے۔اور صبح صادق کے کھلنے کی طرح پوری بھی ہو چکی ہیں اور دوسو جگہ سے زیادہ قبولیت دعا کے آثار نمایاں ایسے نازک موقعوں پر دیکھے گئے جن میں بظاہر کوئی صورت مشکل کشائی کی نظر نہیں آتی تھی اور اسی طرح کشف قبور اور دوسرے انواع اقسام کے عجائبات اسی سورہ کے التزام ورد سے ایسے ظہور پکڑتے گئے کہ اگر ایک ادنی پر تو ہ ان کا کسی پادری یا پنڈت کے دل پر پڑ جائے تو یکدفعہ حُبّ دُنیا سے قطع تعلق کر کے اسلام کے قبول کرنے کے لئے مرنے پر آمادہ ہو جائے۔اسی طرح بذریعہ الہامات صادقہ کے جو پیشگوئیاں اس عاجز پر ظاہر ہوتی رہی ہیں جن میں سے بعض پیشگوئیاں مخالفوں کے سامنے پوری ہو گئی ہیں اور پوری ہوتی جاتی ہیں اس قدر ہیں کہ اس عاجز کے خیال میں دو انجیلوں کی ضخامت سے کم نہیں۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۴۲ تا ۶۴۵ حاشیہ نمبر ۱۱) واني انا موت الزور و حرز المذعور۔وانا حربة المولى الرحمن وحجة الله الديان۔وانا النهار والشمس و السبيل۔و فى نفسى تحققت الاقاويل۔وبي ابطلت الاباطيل۔وانا الواصف والموصوف۔وانا ساق الله المكشوف۔و انا قدم الرسول التي تحشر عليها الاموات۔وتُمحى بها الضلالات لجة النور - روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۴۷۴،۴۷۳) لے یقیناً میں جھوٹ کی موت ہوں اور گڑ گڑانے والے کے لئے پناہ گاہ ہوں۔میں رب رحمن کا نیزہ ہوں۔اور مالک روز جزا سزا اللہ کی حجت ہوں۔اور میں دن ہوں ، سورج ہوں اور صراط مستقیم ہوں۔اور میری ذات میں ( گزشتہ بزرگوں) کی پیشگوئیاں پوری ہوئی ہیں۔اور مجھ سے جھوٹی باتیں باطل ٹھہری ہیں۔میں تعریف کرنے والا ہوں اور تعریف کیا گیا ہوں۔میں خدا کی نگی پنڈلی ہوں۔( یعنی میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنی تجلیات کا اظہار فرماتا ہے ) اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ نقش پا ہوں جس پر مُردوں کو زندہ کیا جائے گا اور جس سے گمراہیاں دور کی جائیں گی۔