حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 649 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 649

۶۴۹ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا۔ہاں جو لوگ شیطانی سرشت رکھتے ہیں وہ اس قاعدہ سے باہر ہیں۔(حقیقة الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۲۲ حاشیه ) اول ہم بیان کر چکے ہیں کہ صاحب انتہائی کمال کا جس کا وجود سلسلہ خط خالقیت میں انتہائی نقطہ ارتفاع پر واقع ہے حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اُن کے مقابل پر وہ خسیس وجود جو انتہائی نقطہ انخفاض پر واقع ہے اس کو ہم لوگ شیطان سے تعبیر کرتے ہیں۔اگر چہ بظاہر شیطان کا وجود مشہود و محسوس نہیں۔لیکن اس سلسلہ خط خالقیت پر نظر ڈال کر اس قدر تو عقلی طور پر ضرور ماننا پڑتا ہے کہ جیسے سلسلہ ارتفاع کے انتہائی نقطہ میں ایک وجود خیر مجسم ہے جو دنیا میں خیر کی طرف ہادی ہو کر آیا اِسی طرح اس کے مقابل پر ذو العقول میں انتہائی نقطہ انخفاض میں ایک وجود شرانگیز بھی جو شر کی طرف جاذب ہو ضرور چاہئے۔اسی وجہ سے ہر یک انسان کے دل میں باطنی طور پر بھی دونوں وجودوں کا اثر عام طور پر پایا جاتا ہے پاک وجود جو روح الحق اور نور بھی کہلاتا ہے یعنی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اس کا پاک اثر بجذبات قدسیہ تو جہات باطنیہ ہر ایک دل کو خیر اور نیکی کی طرف بلاتا ہے۔جس قدر کوئی اس سے محبت اور مناسبت پیدا کرتا ہے اسی قدر وہ ایمانی قوت پاتا ہے اور نورانیت اس کے دل میں پھیلتی ہے یاں تک کہ وہ اسی کے رنگ میں آجاتا ہے اور ظلمی طور پر ان سب کمالات کو پالیتا ہے جو اس کو حاصل ہیں اور جو وجود شر انگیز ہے یعنی وجود شیطان جس کا مقام ذوالعقول کی قسم میں انتہائی نقطہ انخفاض میں واقع ہے اُس کا اثر ہر یک دل کو جو اس سے کچھ نسبت رکھتا ہے شرک کی طرف کھینچتا ہے۔جس قدر کوئی اس سے مناسبت پیدا کرتا ہے اس قدر بے ایمانی اور خباثت کے خیال اس کو سو جھتے ہیں یاں تک کہ جس کو مناسبت تام ہو جاتی ہے وہ اسی کے رنگ اور روپ میں آکر پورا پورا شیطان ہو جاتا ہے اور ظلمی طور پر ان سب کمالات خباثت کو حاصل کر لیتا ہے جو اصلی شیطان کو حاصل ہیں۔اسی طرح اولیاء الرحمن اور اولیاء الشیطان اپنی اپنی مناسبت کی وجہ سے الگ الگ طرف کھینچے چلے جاتے ہیں۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۴۸ تا ۲۵۱ حاشیه ) فاطر: ۲۹