حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 641
۶۴۱ تب دنیا میں جہاں جہاں جو ہر قابل پائے جاتے ہیں سب پر اُس نور کا پر توہ پڑتا ہے اور تمام عالم میں ایک نورانیت پھیل جاتی ہے اور فرشتوں کی پاک تاثیر سے خود بخود دلوں میں نیک خیال پیدا ہونے لگتے۔ہیں اور توحید پیاری معلوم ہونے لگتی ہے اور سیدھے دلوں میں راست پسندی اور حق جوئی کی ایک روح پھونک دی جاتی ہے اور کمزوروں کو طاقت عطا کی جاتی ہے اور ہر طرف ایسی ہوا چلنی شروع ہو جاتی ہے کہ جو اس مصلح کے مدعا اور مقصد کو مدد دیتی ہے۔ایک پوشیدہ ہاتھ کی تحریک سے خود بخو دلوگ صلاحیت کی طرف کھسکتے چلے آتے ہیں اور قوموں میں ایک جنبش سی شروع ہو جاتی ہے۔تب نا سمجھ لوگ گمان کرتے ہیں کہ دنیا کے خیالات نے خود بخو د راستی کی طرف پلٹا کھایا ہے لیکن درحقیقت یہ کام ان فرشتوں کا ہوتا ہے کہ جو خلیفہ اللہ کے ساتھ آسمان سے اُترتے ہیں اور حق کے قبول کرنے اور سمجھنے کے لئے غیر معمولی طاقتیں بخشتے ہیں۔سوئے ہوئے لوگوں کو جگا دیتے ہیں اور مستوں کو ہشیار کرتے ہیں اور بہروں کے کان کھولتے ہیں اور مردوں میں زندگی کی روح پھونکتے ہیں اور ان کو جو قبروں میں ہیں باہر نکال لاتے ہیں۔تب لوگ یکدفعہ آنکھیں کھولنے لگتے ہیں اور اُن کے دلوں پر وہ باتیں کھلنے لگتی ہیں جو پہلے مخفی تھیں اور در حقیقت یہ فرشتے اس خلیفہ اللہ سے الگ نہیں ہوتے۔اسی کے چہرہ کا نور اور اُسی کی ہمت کے آثار جلیہ ہوتے ہیں جو اپنی قوت مقناطیسی سے ہر ایک مناسبت رکھنے والے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں خواہ وہ جسمانی طور پر نزدیک ہو یا دور ہو اور خواہ آشنا ہو یا بکلی بے گانہ اور نام تک بے خبر ہو۔غرض اس زمانہ میں جو کچھ نیکی کی طرف حرکتیں ہوتی ہیں اور راستی کے قبول کرنے کے لئے جوش پیدا ہوتے ہیں خواہ وہ جوش ایشیائی لوگوں میں پیدا ہوں یا یورپ کے باشندوں میں یا امریکہ کے رہنے والوں میں وہ در حقیقت انہی فرشتوں کی تحریک سے جو اس خلیفہ اللہ کے ساتھ اُترتے ہیں ظہور پذیر ہوتے ہیں۔یہ الہی قانون ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔اور بہت صاف اور سریع الفہم ہے۔(فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۲ ۱۳ حاشیہ) اِس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ روح القدس کی قدسیت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم کے تمام قومی میں کام کرتی رہتی ہے اور وہ بغیر روح القدس اور اُس کی تاثیر قدسیت کے ایک دم بھی اپنے تئیں ناپاکی سے بچا نہیں سکتا اور انوار دائمی اور استقامت دائمی اور محبت دائمی اور عصمت دائمی اور برکات دائمی کا بھی سبب ہوتا ہے کہ روح القدس ہمیشہ اور ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا ہے۔پھر